We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

1935 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ: أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَوْ أَعْطَيْتِهَا أخوالك كَانَ أعظم لأجرك»

روایت ہے حضرت میمونہ بنت حارث سے کہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک لونڈی آزاد کی پھر رسول اﷲ سے اس کا تذکرہ کیا تو فرمایا کہ اگر تم لونڈی اپنے مامؤوں کو دے دیتیں تو تمہیں بڑا ثواب ملتا ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ اس لیے کہ آزاد کرنے میں صرف صدقہ کا ثواب ہے اور انہیں دینے میں صدقہ کا بھی ثواب ہوتا اور صلہ رحمی کا بھی۔معلوم ہوا کہ صلہ رحمی غلام آزاد کرنے سے بھی افضل ہے۔خیال رہے کہ ولیدہ وہ لونڈی کہلاتی ہے جو اپنے مملوک غلام اور لونڈی کے پیٹ سے پیدا ہو یعنی خانہ زاد اور یہ میمونہ ام المؤمنین ہیں، حضرت عبداﷲ ابن عباس کی خالہ۔(اشعہ ومرقات)

1936 -[8]

وَعَن عَائِشَة قَالَت: يَا رَسُول الله إِن لِي جَارَيْنِ فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي؟ قَالَ: «إِلَى أقربهما مِنْك بَابا» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم میرے دو پڑوسی ہیں ان میں سے کسے ہدیہ دیا کروں فرمایا جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو ۱؎ (بخاری)

۱؎ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ پڑوسیوں کو ہدیہ دینا سنت ہے کہ اس سے محبت بڑھتی ہے۔دوسرے یہ کہ اس کی علت پڑوسیت ہے جس قدر پڑوسیت قوی ہوگی اسی قدر ہدیہ کا استحقاق زیادہ ہوگا۔ تیسرے یہ کہ پڑوس کا قرب دروازہ سے ہوتا ہے نہ چھت سے نہ دیوار سے۔اگر ایک شخص کے مکان کی دیوار اورچھت تو ہمارے مکان سے ملی ہو مگر دروازہ دور ہو اور دوسرے کی نہ چھت ملی ہو نہ دیوار مگر دروازہ قریب ہو تو زیادہ قریب یہ دوسرا ہی مانا جائے گا اور اس کی وجہ بھی ظاہر ہے کیونکہ دروازہ کی وجہ سے ملاقات ہوتی ہے اور اسی کے ذریعہ زیادہ خلط ملط رہتا ہے اور ایک کو دوسرے کے درد وغم میں شرکت کا زیادہ موقع ملتا ہے۔یہ حدیث اس آیتِ کریمہ کی تفسیرہے"وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ"۔حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ دور والے پڑوسی کو بالکل نہ دو مطلب یہ ہے کہ سب کو دو مگر قریب کو ترجیح دو۔

1937 -[9]

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا طَبَخْتَ مَرَقَةً فَأكْثر ماءها وتعاهد جيرانك» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب شوربہ پکاؤ تو اس کا پانی زیادہ کرو اور اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھو ۱؎(مسلم)

۱؎ اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ معمولی سالن بھی پڑوسیوں کو بھیجتے رہنا چاہئیے کیونکہ سرکار نے یہاں شوربہ فرمایا گوشت کا ہو یا کسی اور چیزکا۔دوسرے یہ کہ ہر پڑوسی کو ہدیہ دینا چاہئیے قریب ہو یا دور اگرچہ قریب کا حق زیادہ ہے۔تیسرے یہ کہ ہمیشہ لذت پر الفت اور محبت کو ترجیح دینا چاہئیے کیونکہ جب شوربے میں فقط پانی پڑے گا تو مزہ کم ہوجائے گا لیکن اس کے ذریعہ پڑوسیوں سے تعلقات زیادہ ہوجائیں گے اسی لیے مَآءَھَا فرمایا یعنی صرف پانی ہی بڑھا دو اگرچہ گھی اور مصالحہ نہ بڑھاسکو۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1938 -[10]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «جُهْدُ الْمُقِلِّ وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے انہوں نے عرض کیا یا رسول اﷲ کونسا صدقہ بہتر ہے فرمایا غریب آدمی کی مشقت ۱؎ اور ان سے شروع کرو جن کی پرورش کرتے ہو۲؎(ابوداؤد)

 



Total Pages: 441

Go To