Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۷؎ یعنی خود تو شرم و ہیبت کی وجہ سے حاضر نہیں ہوتیں میری معرفت یہ مسئلہ پوچھوا رہی ہیں۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مسئلہ براہ راست پوچھنا بھی جائز اورکسی کی معرفت پوچھوانا بھی۔دوسرے یہ کہ دینی باتوں میں ایک کی خبر معتبر ہے گواہی قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔دیکھو حضرت بلال ان بیبیوں کو جو بھی مسئلہ آکر بتاتے یہ قبول کرلیتیں۔فقہاء فرماتے ہیں کہ جب مطلع گرد آلود ہو تو رمضان کے چاند میں ایک کی خبر قبول ہے اور محدثین کہتے ہیں کہ حدیثوں میں خبر واحد معتبر ہے،ان کے دلائل قرآنی آیات اور احادیث صحیحہ ہیں ان میں ایک حدیث یہ بھی ہے۔

۸؎  شاید یتیموں سے ان کے خاوندوں کی وہ اولاد مراد ہے جن کی والدہ فوت ہوچکی تھیں،یعنی ان کی سوتیلی اولاد۔انہیں یتیم کہنا مجازًا ہے ورنہ انسان یتیم وہ نابالغ ہوتا ہے جس کا باپ فوت ہوجائے اور جانوروں میں وہ بچہ یتیم جس کی ماں مرجائے۔ان بیبیوں کا خیال یہ تھا کہ چونکہ یہ سب لوگ ہمارے ساتھ ہی رہتے سہتے ہیں اور ساتھ کھاتے پیتے ہیں اگر انہیں صدقہ دیا گیا تو اس کا کچھ حصہ ہمارے کھانے میں بھی آجائے گا لہذا ناجائز ہونا چاہئیے۔

 ۹؎ تاکہ حاضرین میں ہمارا نام نہ لیا جائے اور ہمارا سوال ریا نہ بن جائے یا ہم بلا نہ لی جائیں۔

۱۰؎  حضرت بلال کا جواب نہایت ایمان افروز ہے کیونکہ ان بیبیوں نے کہا تھا کہ ہمارا نام نہ بتانا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نام بتاؤ تو حکم رسول و حکم امتی میں تعارض ہوا جناب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو ترجیح ہوئی اور امتی کا حکم  قابل عمل نہ رہا    ۔مرقات نے  یہاں فرمایا کی حضرت بلال  پر  نام  بتادینا  فرض شرعی ہوگیاکیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم  ماننا فرض ہے،انہیں دوسری بی بی کا نام معلوم نہیں تھا ورنہ وہ بھی بتادیتے۔

۱۱؎ یعنی مدینہ منورہ میں بہت عورتوں کا نام زینب ہے صاف بتاؤ کونسی زینب ہیں تب حضرت بلال نے عرض کیا کہ عبداﷲ کی بیوی،اگرچہ عبداﷲ نام کے بہت صحابہ تھے عبداﷲ ابن عمر،عبداللہ ابن عباس،عبداﷲ ابن زبیر،عبداﷲ ابن عمرو ابن عاص وغیرہم مگر ان سب میں عبداﷲ ابن مسعود بہت مشہور فقیہ ترین تھے،علم فقہ کی باعث فقط عبداﷲ کہنے پر لوگوں کے ذہن انہیں کی طرف جاتے تھے اسی لیے حضرت بلال نے ابن مسعود نہ فرمایا بلکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پھر نہ پوچھنا کون عبداﷲ اسی جلالت شان کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ اکثر فقیہات میں حضرت عبداﷲ ابن مسعود ہی کے پیروکار ہیں۔

۱۲؎  سارے آئمہ اس پر متفق ہیں کہ خاوند اپنی بیوی کو اپنی زکوۃ نہیں دے سکتا مگر اس میں اختلاف ہے کہ بیوی خاوند کو زکوۃ دے سکتی ہے یا نہیں۔ہمارے امام اعظم فرماتے ہیں کہ نہیں دے سکتی،دیگر آئمہ فرماتے ہیں کہ دے سکتی ہے،ان بزرگوں کی دلیل یہ حدیث ہے۔امام اعظم فرماتے ہیں کہ یہاں صدقہ نفل مراد ہے صدقہ فرض کی تصریح نہیں ممانعت کی صریح حدیث آگے آرہی ہے،نیز عورت و خاوند کے مال قریبًا مشترک ہوتے ہیں تو جب خاوند بیوی کو زکوۃ نہ دے سکا تو بیوی خاوند کو زکوۃ کیسے دے سکتی ہے۔صدقہ کا لفظ صدقہ نفلی پر عام شائع ہے۔چنانچہ کتاب الزکوۃ کی آخری حدیث میں آئے گا کہ ایک عورت نے اپنی ماں کو صدقہ دیا یعنی صدقہ نفلی۔

1935 -[7] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ: أَنَّهَا أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَوْ أَعْطَيْتِهَا أخوالك كَانَ أعظم لأجرك»

روایت ہے حضرت میمونہ بنت حارث سے کہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک لونڈی آزاد کی پھر رسول اﷲ سے اس کا تذکرہ کیا تو فرمایا کہ اگر تم لونڈی اپنے مامؤوں کو دے دیتیں تو تمہیں بڑا ثواب ملتا ۱؎(مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 441

Go To