Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

1934 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ» قَالَتْ فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ إِنَّكَ رَجُلٌ خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ فَأْتِهِ فَاسْأَلْهُ فَإِنْ كَانَ ذَلِك يَجْزِي عني وَإِلَّا صرفتها إِلَى غَيْركُمْ قَالَت فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بَلِ ائْتِيهِ أَنْتِ قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِبَابِ رَسُولِ الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم حَاجَتي حَاجَتهَا قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قد ألقيت عَلَيْهِ المهابة. فَقَالَت فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا لَهُ ائْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأتَيْنِ بِالْبَابِ تسألانك أتجزئ الصَّدَقَة عَنْهُمَا على أَزْوَاجِهِمَا وَعَلَى أَيْتَامٍ فِي حُجُورِهِمَا وَلَا تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ.قَالَتْ فَدَخَلَ بِلَالٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ هما» . فَقَالَ امْرَأَة من الْأَنْصَار وَزَيْنَب فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّ الزَّيَانِبِ» . قَالَ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَهما أَجْرَانِ أجر الْقَرَابَة وَأجر الصَّدَقَة» . وَاللَّفْظ لمسلم

روایت ہے حضرت زینب زوجہ عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے عورتوں کی جماعت صدقہ کرو اگرچہ اپنے زیور سے ہی ہو ۱؎ فرماتی ہیں عبداﷲ کی طرف لوٹی ہوئی بولی کہ تم کچھ مسکین و تنگدست ہو اور رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو صدقہ کا حکم دیا ہے تم وہاں حاضر ہو کر پوچھ آؤ اگر تم کو میرا صدقہ کرنا درست ہو تو خیر ۲؎ ورنہ میں آپ لوگوں کے سواء کسی اور جگہ خرچ کروں ۳؎ فرماتی ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بولے کہ تم ہی وہاں جاؤ ۴؎ میں چلی تو حضور کے دروازہ پاک پر ایک اور انصاری بی بی بھی تھیں جنہیں میرے جیسا ہی کام تھا ۵؎ فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر قدرتی ہیبت دی گئی تھی۶؎ فرماتی ہیں کہ ہمارے پاس حضرت بلال آئے ہم نے ان سے عرض کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ عرض کرنا کہ دروازے پر دو بیبیاں ہیں جو حضور سے پوچھتی ہیں ۷؎ کہ کیا ان کا اپنے خاوندوں اور یتیموں پر خرچ کر دینا جو ان کی پرورش میں ہوں صدقہ بن جائے گا ۸؎ اور یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں ۹؎ فرماتی ہیں کہ حضرت بلال رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسئلہ پوچھا ان سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کون ہیں عرض کیا کہ ایک انصاری بی بی اور زینب ہیں ۱۰؎ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کونسی زینب عرض کیا عبداﷲ کی زوجہ ۱۱؎ تب رسول ا ﷲ نے فرمایا کہ انہیں دو ہرا ثواب ہے ایک ثواب قرابت کا دوسرا صدقہ کا ۱۲؎(مسلم،بخاری)اور لفظ مسلم کے ہیں۔

۱؎ غالبًا حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد عید کے دن تھا،چونکہ اس زمانہ میں عورتیں بھی نماز عید کے لیے عیدگاہ جاتی تھیں اور ان کے لیے بعد نماز مخصوص وعظ ہوتا تھا اس وعظ میں آپ سے یہ سنا۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہےکہ عورتوں کے استعمالی زیور پر زکوۃ فرض ہےاور یہ زکوۃ خود عورت پر فرض ہے نہ کہ اس کے خاوند پر خواہ میکے سے زیور ملا ہو یا سسرال والوں نے دیا ہو بشرطیکہ مالک کردیا ہولہذا یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے،امام شافعی کے ہاں پہننے کے زیور میں زکوۃ نہیں۔ان شاءاﷲ اس کی تحقیق مصارف زکوۃ میں ہوگی۔اس صورت میں زیور سے مراد چاندی سونے کا زیور ہےکیونکہ پہننے کے موتی،مرجان،لعل،ہیرے پر زکوۃ نہیں۔

۲؎ یعنی اگر تم کو میرا صدقہ دینا درست ہو تب تو میں تم ہی کو صدقہ دے دوں ورنہ کسی اورکو دوں۔اس سے معلوم ہوا کہ غنی عورت کا خاوند اور غنی خاوند کی بیوی ایک دوسرے کے غنی سے غنی نہ مانے جائیں گے جیسے امیر کی بالغ اولاد باپ کی غنا سے غنی نہیں ہوتی۔دیکھو حضرت ابن مسعود کی بیوی  غنیہ تھیں مگر خود ابن مسعود مسکین تھے۔

۳؎ حضرت ابن مسعود کی کچھ اولاد بھی تھی جو دوسری بیوی سے تھی اور اب حضرت زینب ان کی پرورش فرماتی تھیں۔غیر کم میں ان سب سے خطاب ہے یعنی اگر تمہیں اور تمہارے ان بچوں کو میرا صدقہ لینا درست ہو تو میں تمہیں دے دوں ورنہ دوسروں کو دوں۔

۴؎ مجھے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھتے شرم آتی ہے کہ اس سے بعض لوگ مجھے طمعی سمجھیں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ خاوند اپنی بیوی سے باہر کا کام بھی کراسکتا ہے جب کہ حجاب و پردہ سے ہو،یہ بھی معلوم ہوا کہ مسئلہ خود نہ پوچھنا کسی دوسرے سے پوچھوالینا بھی درست ہے جب اس سے کچھ مانع ہو۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مذی کا مسئلہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے خود نہ پوچھا بلکہ حضرت مقداد سے پوچھوایا۔

۵؎ یعنی حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ پر ایک بی بی اور بھی یہ ہی پوچھنے کھڑی تھیں مجھے اس سے خوشی ہوئی کہ ہم دو ہوگئے۔

۶؎ یعنی رب العلمین نے دلوں میں آپ کی ہیبت ڈال دی تھی جس کی وجہ سے ہرشخص بغیر اجازت خدمت میں حاضر ہونے،عرض معروض کرنے کی ہمت نہ کرتا تھا اور حاضرین بارگاہ بھی ایسے خاموش اور با ادب بیٹھتے تھے جیسے ان کے سروں پر پرندے ہیں،حالانکہ سرکار انتہائی خلیق اور بہت رحیم و کریم تھے۔شعر

ہیبت حق است ایں از خلق نیست                            ہیبت ایں مردِ صاحب دلق نیست

اسی وجہ سے یہ دونوں بیبیاں دروازے پر کھڑی رہ گئیں،بارگاہ پاک میں باریاب نہ ہوئیں۔

 



Total Pages: 441

Go To