Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

کون دوسرے سے افضل ہے یہ پتہ نہ لگا کیونکہ واؤ جمع کے لیے آتا ہے ترتیب نہیں چاہتا لہذا ان میں سے ایک دوسرے کی افضَلیت موقعہ ومحل کے لحاظ سے ہوگی،اگر جہاد کی سخت ضرورت آپڑی ہے تو غازیوں پر خرچ افضل اور گھر والے بہت ہی ضرورت مند ہوں تو ان پر خرچ بہتر۔

1933 -[5] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِيَ أَجْرٌ أَنْ أَنْفِقَ عَلَى بَنِي أَبِي سَلَمَةَ؟ إِنَّمَا هُمْ بَنِيَّ فَقَالَ: «أَنَفِقِي عَلَيْهِمْ فَلَكِ أَجْرُ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِم»

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے ۱؎ فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ اگر میں ابوسلمہ کے بچوں پر جو گویا میرے ہی بچے ہیں خرچ کروں تو کیا مجھے ثواب ملے گا فرمایا ان پر خرچ کرو تمہیں ان پر خرچ کا ثواب ہے ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ ام سلمہ کے پہلے خاوند کا نام عبداﷲ ابن عبدالاسد تھا،کنیت ابو سلمہ،ان کی وفات کے بعد آپ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت سے مشرف ہوئیں،ابو سلمہ کی کچھ اولاد دوسری بیوی سے تھی جو ام سلمہ کی سوتیلی اولاد تھی،عمر،زینت اور کچھ اولاد خود ام سلمہ کے بطن سےتھی یعنی سلمہ کی حقیقی اولادمحمد،درّہ۔یہاں سوال سوتیلی اولاد کے متعلق ہے ورنہ آپ بنی ابی سلمہ نہ فرماتیں لہذا حدیث پر کوئی ا عتراض نہیں۔

۲؎ کیونکہ وہ یتیم بھی ہیں اور تمہارے عزیز ترین بھی،ان پر خرچ کرنا یتیم کو پالنابھی ہے اور عزیز کا حق ادا کرنا بھی،اپنے فوت شدہ خاوند کی روح کو خوش کرنابھی۔

1934 -[6] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ» قَالَتْ فَرَجَعْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقُلْتُ إِنَّكَ رَجُلٌ خَفِيفُ ذَاتِ الْيَدِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ فَأْتِهِ فَاسْأَلْهُ فَإِنْ كَانَ ذَلِك يَجْزِي عني وَإِلَّا صرفتها إِلَى غَيْركُمْ قَالَت فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بَلِ ائْتِيهِ أَنْتِ قَالَتْ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ بِبَابِ رَسُولِ الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم حَاجَتي حَاجَتهَا قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قد ألقيت عَلَيْهِ المهابة. فَقَالَت فَخَرَجَ عَلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا لَهُ ائْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ امْرَأتَيْنِ بِالْبَابِ تسألانك أتجزئ الصَّدَقَة عَنْهُمَا على أَزْوَاجِهِمَا وَعَلَى أَيْتَامٍ فِي حُجُورِهِمَا وَلَا تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ.قَالَتْ فَدَخَلَ بِلَالٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ هما» . فَقَالَ امْرَأَة من الْأَنْصَار وَزَيْنَب فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّ الزَّيَانِبِ» . قَالَ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَهما أَجْرَانِ أجر الْقَرَابَة وَأجر الصَّدَقَة» . وَاللَّفْظ لمسلم

روایت ہے حضرت زینب زوجہ عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتی ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اے عورتوں کی جماعت صدقہ کرو اگرچہ اپنے زیور سے ہی ہو ۱؎ فرماتی ہیں عبداﷲ کی طرف لوٹی ہوئی بولی کہ تم کچھ مسکین و تنگدست ہو اور رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو صدقہ کا حکم دیا ہے تم وہاں حاضر ہو کر پوچھ آؤ اگر تم کو میرا صدقہ کرنا درست ہو تو خیر ۲؎ ورنہ میں آپ لوگوں کے سواء کسی اور جگہ خرچ کروں ۳؎ فرماتی ہیں کہ مجھ سے عبداللہ بولے کہ تم ہی وہاں جاؤ ۴؎ میں چلی تو حضور کے دروازہ پاک پر ایک اور انصاری بی بی بھی تھیں جنہیں میرے جیسا ہی کام تھا ۵؎ فرماتی ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم پر قدرتی ہیبت دی گئی تھی۶؎ فرماتی ہیں کہ ہمارے پاس حضرت بلال آئے ہم نے ان سے عرض کیا کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤ عرض کرنا کہ دروازے پر دو بیبیاں ہیں جو حضور سے پوچھتی ہیں ۷؎ کہ کیا ان کا اپنے خاوندوں اور یتیموں پر خرچ کر دینا جو ان کی پرورش میں ہوں صدقہ بن جائے گا ۸؎ اور یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں ۹؎ فرماتی ہیں کہ حضرت بلال رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسئلہ پوچھا ان سے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا وہ کون ہیں عرض کیا کہ ایک انصاری بی بی اور زینب ہیں ۱۰؎ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کونسی زینب عرض کیا عبداﷲ کی زوجہ ۱۱؎ تب رسول ا ﷲ نے فرمایا کہ انہیں دو ہرا ثواب ہے ایک ثواب قرابت کا دوسرا صدقہ کا ۱۲؎(مسلم،بخاری)اور لفظ مسلم کے ہیں۔

 



Total Pages: 441

Go To