Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۱؎ گھر والوں سے مراد بیوی بچے اور سارے عزیز ہیں،انکی ترتیب کتب فقہ میں دیکھو۔اور طلب اجر سے مراد یہ ہے کہ ان سب پر خرچ کرے سنت جناب مصطفی صلی اﷲ علیہ وسلم سمجھ کر۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ سنت کی نیت سے تو خود اپنا کھانا،سونا،ہنسنا،رونا بلکہ جینا مرنا عبادت ہے،اﷲ تعالٰی نیت خیر نصیب کرے۔دنیا کو دکھانے اور اپنی ناموری کے لیے تو نماز پڑھنا بھی عبادت نہیں چہ جائیکہ یہ خرچ لہذا بیاہ شادیوں میں جو مختلف رسوم کے ماتحت اہل قرابت کو یا کمیوں کو نیک دستور یا حقوق دیئے جاتے ہیں ثواب نہیں کہ وہ اﷲ کے لیے نہیں اپنے نام کے لیے ہیں۔اس سید الفصحاء صلی اﷲ علیہ وسلم نے طلب ثواب کی قید لگائی،اﷲ تعالٰی نیت خیرو اخلاص نصیب کرے۔آمین!

1931 -[3]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دِينَار أنفقته فِي سَبِيل الله ودينار أنفقته فِي رَقَبَةٍ وَدِينَارٌ تَصَدَّقْتَ بِهِ عَلَى مِسْكِينٍ وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى أَهْلِكَ أَعْظَمُهَا أَجْرًا الَّذِي أنفقته على أهلك» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسو ل اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اشرفی تو اﷲ کی راہ میں خرچ کرے ۱؎ اور جو اشرفی تو گردن آزاد کرنے میں خرچ کردے ۲؎ اور جو اشرفی تو کسی مسکین پر صدقہ کرے اور جو اشرفی تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرے ان سب میں زیادہ ثواب اس کا ہے جو تو اپنے گھر والوں پر خرچ کرے ۳؎(مسلم)

۱؎ یہاں اﷲ تعالٰی کی راہ سے مراد حج و جہاد وغیرہ وہ مقامات ہیں جہاں کسی بندے کی رضا قطعًا مقصود نہ ہو۔

۲؎ اس میں مکاتب کی امداد،غلام کی آزادی،مقروض کو قرض سے آزاد کرانا،کسی مصیبت میں پھنسے ہوئے کو اس مصیبت سے نکالنا سب ہی داخل ہیں،نہایت جامع کلمہ ہے۔

۳؎ گھر والوں پر خرچ ان سب خیراتوں سے یا تو اس لیے بہتر ہے کہ وہ خیراتیں نفل تھیں اور یہ خرچ فرض ہے اکثر فرض نفل سے بہتر ہوتا ہے یا اس لیے کہ اس خرچ دینے میں صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی اہل قرابت کے حق کی ادائیگی اور دو نیکیاں ایک نیکی سے افضل ہیں اسی لیے بعض لوگ گیارھویں شریف وغیرہ کی شیرینی اکثر سیدوں کو دیتے ہیں کہ یہ حضرات اولاد رسول ہیں،اس میں خیرات بھی اور اولاد رسول کے حق کی ادائیگی بھی،ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

1932 -[4]

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَفْضَلُ دِينَارٍ يُنْفِقُهُ الرَّجُلُ دِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى عِيَالِهِ وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى دَابَّتِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَدِينَارٌ يُنْفِقُهُ عَلَى أَصْحَابه فِي سَبِيل الله» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ثوبان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ بہترین اشرفی جو آدمی خرچ کرتاہے وہ اشرفی ہے جسے اپنے بال بچوں پر خرچ کرے اور وہ اشرفی ہے جسے اپنے اﷲ واسطے کے گھوڑے پر خرچ کرے ۱؎ اور وہ اشرفی ہے جسے اﷲ کی راہ میں اپنے دوستوں پر خرچ کرے ۲؎(مسلم)

۱؎ یہ ترجمہ بہت مناسب ہے۔فی سبیل اﷲ گھوڑے کی صفت ہے خرچ کے متعلق نہیں یعنی جو گھوڑا جہاد کے لیے پالا ہو اس پر خرچ کرنا بہتر ہے اور جو گھوڑا اپنی سواری وغیرہ کے لیے ہو وہ عیال میں داخل ہے یعنی بال بچے وغیرہ جن کی پرورش ہم پر لازم ہے۔

۲؎  ظاہر یہ ہے کہ یہاں دوستوں سے مراد سفرجہاد یا سفرِ حج کے ساتھی ہیں  ان پر خرچ کرنا دوہرا ثواب ہے ساتھی سے سلوک اور حاجی یا غازی کی امداد۔خیال رہے کہ اس حدیث سے یہ تو معلوم ہوا کہ یہ تین خرچ دوسرے خرچوں سے افضل ہیں مگر ان تین میں سے



Total Pages: 441

Go To