Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۱؎ آپ کی کنیت ابوالخیر ہے،قبیلہ مزینہ سے ہیں،مصر کے رہنے والے تابعین میں سے ہیں،اپنے زمانہ کے مفتی اعظم تھےحتی کہ حضرت عمر ابن عبدالعزیز آپ سے فتویٰ لیتے تھے،حضرت ابن عمر،ابو ایوب عقبہ ابن عامر صحابہ سے ملاقات ہے۔

۲؎  یعنی مؤمن کے صدقہ و خیرات خصوصًا فی سبیل اﷲ مسافر خانے،مسجدیں بنانا اور باغات لگانا وغیرہ کل قیامت میں درخت سایہ دار کی شکل میں نمودار ہوں گے جن کے سایہ میں سخی ہوگا اور قیامت کی گرمی سے محفوظ رہے گا کیونکہ دنیا میں غرباء،فقراء کو اس نے سایہ کرم میں رکھا تھا،حدیث بالکل ظاہری معنے پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں وہاں مال بلکہ اعمال کی مختلف شکلیں ہوں گی:بخیل کا مال گنجے سانپ کی شکل میں،سخی کا مال درخت سایہ دار کی صورت میں نمودار ہوگا۔آج دنیا میں ہم خواب میں ان چیزوں کو مختلف صورتوں میں دیکھتے ہیں،بادشاہ مصر نے قحط کے سال،خشک بال اور دبلی گایوں کی شکل میں دیکھے تھے۔(قرآن کریم)

1926 -[39]

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ وَسَّعَ عَلَى عِيَالِهِ فِي النَّفَقَةِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْهِ سَائِرَ سَنَتِهِ» . قَالَ سُفْيَانُ: إِنَّا قَدْ جربناه فوجدناه كَذَلِك. رَوَاهُ رزين

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ نے کہ جو دسویں محرم اپنے بچوں کے خرچ میں فراخی کرے گا تو اﷲ تعالٰی سارا سال اس کو فراخی دے گا ۱؎ سفیان فرماتے ہیں کہ ہم نے اس حدیث کا تجربہ کیا تو ایسے ہی پایا ۲؎ (رزین)

۱؎ یعنی محرم کی دسویں۱۰ تاریخ کو اپنے بال بچوں،نوکر خادموں،فقراء مساکین کے لیے مختلف قسم کے کھانے تیار کرے تو ان شاءاﷲ تعالٰی سال بھر تک ان کھانوں میں برکت ہوگی،مسلمان عاشورہ کے دن حلیم پکاتے ہیں،اس کا ماخذ یہ حدیث ہے کیونکہ حلیم میں ہر کھانا ہوتا ہے،گندم گوشت اور دالیں چاول وغیرہ تو ان شا ء اﷲ حلیم پکانے والے کے گھر ان تمام کھانوں میں برکت ہوگی۔

۲؎ یعنی سفیان فرماتے ہیں کہ یہ حدیث ہمارے اور ہمارے ساتھیوں کے تجربہ میں آئی ہے واقعی اس عمل سے برکت ہوتی ہے لہذا یہ حدیث قوی ہے۔خیال رہے کہ تجربہ سے بھی حدیث کو تقویت پہنچتی ہے اس لیے محدثین حدیث کی توثیق کے لیے کبھی اپنے تجربہ کا ذکر کردیتے ہیں،یہاں بھی ایسا ہی ہے اس کی بحث ہماری کتاب"جاءالحق"حصہ دوم میں دیکھئے۔خیال رہے کہ عاشورہ کے دن خود روزہ رکھو اور بچوں کو فقراء کو خوب کھلاؤ پلاؤ لہذا یہ حدیث عاشورہ کے روزہ کے خلاف نہیں۔

1927 -[40]

وَرَوَى الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنْهُ وَعَنْ أبي هُرَيْرَة وَأبي سعيد وَجَابِر وَضَعفه

اور بیہقی نے شعب الایمان میں انہی ابن مسعود اور ابوہریرہ اور ابوسعید و جابر سے روایت کیا اور اسے ضعیف فرمایا ۱؎

۱؎ بیہقی نے اسی جگہ فرمایا کہ یہ حدیث بہت سی اسنادوں سے مروی ہے،جو سب ضعیف ہیں مگر چند ضعیف اسناد یں مل کر حدیث کو قوی کردیتی ہیں لہذا یہ حدیث حسن لغیرہ ہے۔(اشعہ)امام عراقی نے فرمایا کہ اس حدیث کی بعض اسنادیں صحیح بھی ہیں امام مسلم کی شرط پر ہیں لہذا متن حدیث صحیح ہے۔(مرقاۃ)اگر حدیث ضعیف بھی ہو تو فضائل اعمال میں قبول ہے،عاشورہ کے دن اور بہت سے اعمال کرنا چاہئیں جیسے غسل کرنا،سرمہ لگانا،روزہ رکھنا وغیرہ۔ان کی تفصیل ہماری کتاب"اسلامی زندگی"میں ملاحظہ کرو۔

1928 -[41]

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الصَّدَقَةُ مَاذَا هِيَ؟ قَالَ: «أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ وَعِنْدَ اللَّهِ الْمَزِيدُ» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت ابو امامہ سے فرماتے ہیں عرض کیا ابوذر نے یا نبی اﷲ فرمایئے تو صدقہ کا درجہ کیا ہے فرمایا وہ چند درچند (دونادون)ہے اور اﷲ کے ہاں زیادتی علاوہ ہے ۱؎

 



Total Pages: 441

Go To