We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۸؎ کیونکہ ایسا سخی اس سرکش نفس کو تابعدار کرلیتا ہے جو پہاڑ سے زیادہ سخت سمندر و ہوا سے زیادہ طوفانی ہے۔نفس اولًا تو بخل سکھاتا ہے جب سخاوت کی جائے تو دکھلاوے کو پسند کرتا ہے یہ خفیہ سخاوت کرنے والا نفس کی دونوں خواہشوں کو کچل دیتا ہے اور نفس کی آگ کو بجھا دیتا ہے لہذا بڑا بہادر ہے،نیز خفیہ صدقہ سے غضب الٰہی کی آگ بجھتی ہے،رضائے الٰہی حاصل ہوتی ہے،یہ نعمتیں پہاڑ،لوہے،آگ،پانی،ہوا سے حاصل نہیں ہوسکتیں لہذا یہ صدقہ ان سب سے بہتر۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ سخاوت مال سے سخاوت حال افضل ہے اور سخاوت حال سے سخاوت کمال بہتر کہ سخاوت مال میں فقیر کی اسی زندگی کے دو ایک دن سنبھل جاتے ہیں مگر حال و کمال کی سخاوت سے ہم جیسے مسکینوں کے دونوں جہاں درست ہوجاتے ہیں،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے تاقیامت لوگوں کے دین و دنیا سنبھال دیئے،حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم بڑے داتا ہیں جیسے زمین پہاڑوں سے ٹھہری ایسے ہی ہمارے دل کسی کی نگاہ کرم سے ٹھہر سکتے ہیں ورنہ دل کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1924 -[37]

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يُنْفِقُ مِنْ كُلِّ مَالٍ لَهُ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ إِلَّا اسْتَقْبَلَتْهُ حَجَبَةُ الْجَنَّةِ كُلُّهُمْ يَدْعُوهُ إِلَى مَا عِنْدَهُ» . قُلْتُ: وَكَيْفَ ذَلِكَ؟ قَالَ: «إِنْ كَانَتْ إِبِلًا فَبَعِيرَيْنِ وَإِنْ كَانَت بقرة فبقرتين» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت ابوذر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی مسلمان اپنے ہر مال سے جوڑا اﷲ کی راہ میں خیرات نہیں کرتا ۱؎ مگر جنت کے دربان اس کا استقبال کریں گے ان میں سے ہر ایک اس کی طرف بلائے گا جو اس کے پاس ہے ۲؎ میں نے عرض کیا یہ کیسے کرے فرمایا اگر اونٹ ہوں تو دو اونٹ دے اور اگر گائیں ہوں تو دو گائے دے ۳؎(نسائی)

۱؎ بعض لوگ فقیر کو کپڑوں کا جوڑا اور جوتا بھی دیتے ہیں نیز روپیہ پیسہ خیرات کرتے ہیں تو کم از کم دو۔ان کا ماخذ یہ حدیث ہے،حدیث بالکل ظاہر پر ہے اس میں کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔

۲؎  یعنی جنت کے ہر دروازہ پر اس کی پکار پڑے گی کہ ادھر سے آؤ۔یہ اظہار عزت کے لیے ہوگا یہ لوگ حضرت ابوبکر صدیق کی فوج ہوں گے وہ اس جماعت کے سردار اعلیٰ رضی اللہ عنہ"یَوْمَ نَدْعُوۡا کُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمٰمِہِمْ

۳؎ اس شرح نے بتادیا کہ حدیث میں ایک جنس کی دو نوعیتیں مراد نہیں،یعنی روٹی و پانی،جوتا و ٹوپی بلکہ ایک نوع کی دو فردیں مراد ہیں یعنی پیسہ خیرات کرو تو دو روپے ہوں،کپڑے ہوں تو دو۔

1925 -[38]

وَعَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ ظِلَّ الْمُؤْمِنِ يَوْمَ الْقِيَامَة صدقته» . رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت مرثد ابن عبداﷲ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ نے خبردی کہ انہوں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا قیامت کے دن مسلمان کا سایہ اس کا صدقہ ہوگا ۲؎(احمد)

 



Total Pages: 441

Go To