Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

1923 -[36]

وَعَن أنس بن مَالك عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ الْأَرْضَ جَعَلَتْ تَمِيدُ فَخَلَقَ الْجِبَالَ فَقَالَ بِهَا عَلَيْهَا فَاسْتَقَرَّتْ فَعَجِبَتِ الْمَلَائِكَةُ مِنْ شِدَّةِ الْجِبَالِ فَقَالُوا يَا رَبِّ هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنِ الْجِبَالِ قَالَ نعم الْحَدِيد قَالُوا يَا رَبِّ هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْحَدِيدِ قَالَ نَعَمِ النَّارُ فَقَالُوا يَا رب هَل من خلقك شَيْء أَشد من النَّار قَالَ نعم المَاء قَالُوا يَا رب فَهَل مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الْمَاءِ قَالَ نَعَمِ الرِّيحُ فَقَالُوا يَا رَبِّ هَلْ مِنْ خَلْقِكَ شَيْءٌ أَشَدُّ مِنَ الرِّيحِ قَالَ نَعَمِ ابْن آدم تصدق بِصَدقَة بِيَمِينِهِ يخفيها من شِمَالِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ

وَذُكِرَ حَدِيثُ مُعَاذٍ: «الصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ» . فِي كتاب الْإِيمَان

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب اﷲ نے زمین کو پیدا کیا تو زمین ہلنے لگی ۱؎ تو پہاڑوں کو پیدا فرمایا تو انہیں زمین میں گاڑ دیا تو زمین ٹھہر گئی ۲؎ تو فرشتوں نے پہاڑوں کی مضبوطی پر تعجب کیا بولے الٰہی کیا تیری مخلوق میں کوئی چیز پہاڑوں سے بھی زیادہ سخت ہے۳؎ فرمایا ہاں لوہا ہے ۴؎ عرض کیا یا الٰہی کیا تیری مخلوق میں کوئی چیز لوہے سے بھی زیادہ سخت ہے فرمایا ہاں آگ ہے ۵؎ عرض کیا مولے کیا تیری مخلوق میں کوئی چیز آگ سے بھی زیادہ سخت ہے فرمایا ہاں پانی ہے ۶؎ بولے یا الٰہ العالمین کیا تیری مخلوق میں کوئی چیز پانی سے بھی زیادہ سخت ہے فرمایا ہاں ہوا ہے ۷؎ بولے اے پروردگار کیا تیری مخلوق میں کوئی چیز ہوا سے بھی زیادہ سخت ہے فرمایا ہاں وہ انسان جو داہنے ہاتھ سے خیرات کرے جسے بائیں ہاتھ سے چھپالے ۸؎(ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے اور حضرت معاذ کی یہ حدیث کہ صدقہ خطائیں مٹا دیتا ہے کتاب الایمان میں ذکر ہوچکی۔

۱؎ جیسے ہلکی کشتی و جہاز پانی پر ہلتا ہے اسی طرح زمین ہلتی تھی فرشتوں نے گمان کیا کہ اس سے لوگ نفع نہ اٹھا سکیں گے۔

۲؎  مرقات نے فرمایا کہ پہلے ابوقبیس پہاڑ پیدا ہوا پھر دوسرے پہاڑ،ان پہاڑوں سے زمین ایسی ٹھہر گئی جیسے جہاز میں وزن لاد دینے سے دریا پر ٹھہرجاتا ہے جنبش نہیں کرتا۔قال قول سے بنا،بمعنی گاڑ دینا،پہاڑ زمین میں ایسے گڑھے ہیں جیسے زمین میں مضبوط درخت کہ پہاڑوں کی جڑیں دور تک پھیلی ہوتی ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَاَلْقٰی فِی الۡاَرْضِ رَوٰسِیَ اَنۡ تَمِیۡدَ بِکُمْبعض شراح نے فرمایا کہ یہاں قال کہنے ہی کے معنے میں ہے یعنی پہاڑ پیدا فرماکر زمین سے فرمایا ٹھہر گئی،یعنی زمین کا ٹھہرنا کُنْ فرمانے سے ہے پہاڑ محض سبب ہیں مگر پہلے معنے زیادہ قوی ہیں جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔

۳؎ فرشتوں کو حیرت یہ ہوئی کہ پہاڑوں نے اتنی بڑی زمین کو اس طرح دبوچ لیا کہ اسے ہلنے نہیں دیتے تو ان سے سخت تر مخلوق کون سی ہوگی۔خیال رہے کہ پہاڑ زمین سے زیادہ وزنی نہیں مگر جیسے جہاز کا سامان جہاز کے وزن سے کہیں ہلکا ہوتا ہے مگر جہاز کو ہلنے نہیں دینا اسی طرح پہاڑ کا معاملہ ہے۔

۴؎ کیونکہ لوہا پہاڑ کو توڑ دیتا ہے پہاڑ لوہے کو نہیں توڑتا۔

۵؎  کہ آگ لوہے کو پگھلا دیتی ہے،بلکہ زیادہ تیز ہو تو لوہے کو گلا کر پانی بنادیتی ہے۔

۶؎ کہ پانی آگ کو بجھا دیتا ہے اگرچہ آگ پانی کو گرم بھی کردیتی ہے اور جلا بھی دیتی ہے مگر کسی برتن کی مدد سے جب کہ پانی اس میں بند ہو اگر آڑ ہٹا دی جائے تو پانی ہی آگ کو بجھاتا ہے لہذا حدیث پر کوئی اعتراض نہیں پانی قید میں رہ کر جلتا ہے۔

۷؎ کیونکہ ہوا پانی سے لدے بادلوں کو اڑا ئے پھرتی ہے اور سمندر میں طلاطم پیدا کردیتی ہے جس سے وہاں طوفان برپا ہوجاتا ہے۔

 



Total Pages: 441

Go To