Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

۳؎  یعنی صرف مشرکین کو"لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ"کی دعوت دو اور تمام کفار کو"مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ"کی کیونکہ مشرکین توحید کے منکر ہیں اور باقی موحد،کفار و اہل کتاب توحید کے تو قائل ہیں مگر رسالت مصطفوی کے منکر۔علامہ شامی فرماتے ہیں کہ ہر کافر کو مسلمان بناتے وقت وہ ہی چیز پڑھائی جائے جس کا وہ منکر ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کفار شرعی احکام کے مکلف نہیں اور یہ کہ کفار کو اسلام لانے پر مجبور نہ کیا جائے گا"لَاۤ اِکْرَاہَ فِی الدِّیۡنِ"اور یہ کہ تبلیغ نرمی و خوش اخلاقی سے چاہیئے  اور یہ کہ ذمی کفار کو تبلیغ اسلام کرنا سنت ہے  اور حکام اور آفیسران صرف ملکی انتظام ہی نہ کریں بلکہ دینی تبلیغ بھی کریں حاکم مبلغ بھی ہونا چاہیئے  اور یہ کہ آفیسران و حکام خودبھی شرعی احکام سے واقف ہونے چاہئیں ورنہ وہ تبلیغ نہیں کرسکتے۔

۴؎  یعنی جب وہ مسلمان ہوجائیں تو انہیں نماز کے احکام سناؤ سکھاؤ،چونکہ اسلام میں سارے احکام سے پہلے نماز کا حکم آیا،نیز یہ عبادت بدنی ہے،نیز یہ ہرمسلمان پر فرض ہے اس لیے کلمہ پڑھانے کے بعد ہی اس کا ذکر فرمایا۔خیال رہے کہ یہاں نماز جنازہ،عیدین،وتر وغیرہ کا ذکر نہ فرمایاصرف پانچ نمازوں کا فرمایا یا تو اس وقت ان کا حکم نہ ہوا تھا یا وہ تمام چیزیں پانچ نمازوں کے تابع فرمادی گئیں یا یہاں تمام احکام شرعیہ کا ذکر نہیں ہے خاص خاص کا ہے اسی لیے روزے کا ذکر نہیں زکوۃ کاہے حالانکہ روزہ زکوۃ سے پہلے فرض ہوچکا تھا۔لہذا اس حدیث کی بنا پر یہ نہیں کہاجاسکتا کہ نماز عید یا وتر واجب نہیں اور نہ یہ حدیث حنفیوں کے خلاف ہے۔

۵؎  یہاں اِنْ بمعنی اِذَاہے یعنی جب وہ نماز کے احکام سیکھ لیں تو زکوۃ کے احکام سکھاؤ،آہستگی سے تبلیغ کرو کہ انہیں سکھانا مقصود ہے نہ صرف بتادینا۔حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ اگر وہ مسلمان ہونے کے بعد نماز کو فرض مان لیں تب تو  زکوۃ  سکھانا اور اگر نماز   کی فرضیت سے انکارکردیں تو زکوۃ نہ سکھاناکیونکہ مسلمان کا نماز سے انکار کرنا ارتداد ہے اورکسی کو مرتد ہوجانے کی اجازت نہیں لہذا حدیث پر کوئی بھی اعتراض نہیں اور زکوۃ کے لیے نماز شرط ہے۔

۶؎  یعنی ہم ٹیکس کی طرح تم سے زکوۃ وصول کرکے مدینہ منورہ  نہ لے جائیں گے اور خود نہ کھائیں گے تاکہ تم سمجھو کہ اسلام کی اشاعت کھانے کمانے کے لیے ہے بلکہ تمہارے مالداروں سے زکوۃ لے کر تمہارے ہی فقراء کو دے دی جائے گی۔اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:(۱)ایک یہ کہ کافر زکوۃ نہیں دے سکتے۔(۲)دوسرے یہ کہ بلاسخت مجبوری ایک جگہ کی تمام زکوۃ دوسری جگہ منتقل نہ کی جائے۔(۳)تیسرے یہ کہ مالدار صاحب نصاب زکوۃ نہیں لے سکتا جیساکہ لفظ فقراء اور ضَمِیْرُھُمْسے معلوم ہوا۔ ضرورۃً زکوۃ کو منتقل کرنا بالکل جائز ہے جیسے کہ غنی کے اہل قرابت فقیر دوسرے شہر میں رہتے ہوں یا دوسری جگہ سخت فقر و تنگدستی ہویا دوسری جگہ صدقہ کا ثواب زیادہ ہو لہذا اپنی کچھ زکوۃ مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ بھیجوانا جیسا کہ آج کل رواج ہے بالکل جائز ہے۔خیال رہے کہ یہاں اغنیاء سے مراد بالغ عاقل مالدار مراد ہیں کیونکہ نماز کی طرح زکوۃ بھی بچے اور دیوانے پر فرض نہیں،یہ بھی خیال رہے کہ باطنی مال یعنی سونے چاندی وغیرہ کی زکوۃ خود غنی ہی ادا کرے گا اور ظاہری مال جانور پیداوار کی زکوۃ حاکم اسلام وصول کرکے اپنے انتظام سے خرچ کرے گا،یہاں تُؤخَذُ میں دونوں صورتیں داخل ہیں۔

۷؎ یعنی زکوۃ میں ان کے بہترین مال نہ وصول کرو بلکہ درمیانی مال لو ہاں اگر خود مالک ہی بہترین مال اپنی خوشی سے دے تو ان کی مرضی ہے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں"لَنۡ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنۡفِقُوۡا مِمَّا تُحِبُّوۡنَ"۔اس جملہ سے اشارۃً معلوم ہوا کہ ہلاک شدہ مال کی زکوۃ نہ لی جائے گی کیونکہ اموالھم ارشاد ہوا۔

 



Total Pages: 441

Go To