Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

1905 -[18]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:«لَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًايَتَقَلَّبُ فِي الْجَنَّةِ فِي شَجَرَةٍ قَطَعَهَا مِنْ ظَهْرِ الطَّرِيقِ كَانَتْ تُؤْذِي النَّاس».رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں نے ایک شخص کو جنت میں مزے سے پھرتے دیکھا اس درخت کی وجہ سے جسے اس نے راستہ کے کنارے سے کاٹ دیا تھا جو لوگوں کو باعث تکلیف تھا ۱؎ (مسلم)

۱؎ یعنی وہ درخت خاردار تھا یا بے خار اس کی جڑ راستہ کے کنارہ پر تھی مگر شاخیں راستہ پر پھیلی ہوئی تھیں اس نے تکلیف دور کرنے کے لیے اسے جڑ سے ہی اکھیڑ دیا تاکہ آئندہ بھی شاخیں نہ پھیل سکیں اگر یہ درخت اس کی اپنی ملکیت تھا یا خود رو تھا تب تو اس کے کاٹ دینے اور اس کی لکڑی گھر لے جانے پر کچھ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا اور اگرکسی غیر کی ملکیت تھا تو اس نے فقط دفع ایذاء کے لیے کاٹ دیا ہوگا اس کی لکڑی پر قبضہ نہ کیا ہو گا۔اس صورت میں اس حدیث سے مسئلہ مستنبط ہوگا کہ موذی چیز کو ختم کردینا جائز ہے اگرچہ دوسرے کی ملکیت ہو،دیوانہ کتا جو کسی کا پالتو تھا،سرکس والوں کا بھاگا ہوا شیر،سپیروں کا چھوٹا ہوا سانپ ماردیئے جائیں،راستہ میں کھودا ہوا کنواں پاٹ دیا جائے اس میں مالک کی اجازت کی ضرورت نہیں۔حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جنت میں یا شب معراج میں دیکھا یا نماز کسوف میں جب آپ پر جنت پیش کی گئی یا عام حالت میں۔

1906 -[19]

وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَنْتَفِعْ بِهِ قَالَ: «اعْزِلِ الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَسَنَذْكُرُ حَدِيث عدي ابْن حَاتِمٍ: «اتَّقُوا النَّارَ» فِي بَابِ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ

روایت ہے حضرت ابو برزہ سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یا نبی اﷲ مجھے وہ بات سکھائیے جس سے نفع اٹھاؤں فرمایا مسلمانوں کے راستہ سے موذی چیز ہٹا دو ۱؎(مسلم)اور ہم حضرت عدی ابن حاتم کی یہ حدیث "اتقوا النار"ان شاءاﷲ باب علامات نبوت میں بیان کریں گے ۲؎

۱؎ سائل نے تو کوئی پڑھنے کے لیے وظیفہ پوچھا ہوگا مگر سرکار نے یہ فرمایا کہ آخرت کی نجات صرف وظیفوں پر موقوف نہیں بلکہ مسلمانوں کی خدمت سے بھی میسر ہوجاتی ہے۔مرقات نے فرمایا کہ یہ سائل کوئی جلیل القدر صحابی تھے جو سارے نیک اعمال پہلے ہی کرتے تھے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ عمل بتاکر اشارۃً سمجھا دیا کہ خدمت خلق بھی ایک اعلیٰ نیکی ہے۔

۲؎ یعنی وہ حدیث مصابیح میں یہاں تھی لیکن ہم نے مشکوٰۃ میں باب علامات نبوت میں بیان کی کیونکہ اس کے زیادہ مناسب تھی۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

1907 -[20]

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ جِئْتُ فَلَمَّا تَبَيَّنْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ. فَكَانَ أَوَّلُ مَا قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصِلُوا الْأَرْحَامَ وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلام» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَابْن مَاجَه والدارمي

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن سلام سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو میں حاضرہوا ۲؎ جب میں نے چہرہ انور غور سے دیکھا تو پہچان لیا کہ آپ کا چہرہ پاک کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں۳؎  پہلی بات جو حضور نے فرمائی یہ تھی کہ اے لوگو سلام کو پھیلاؤ اور کھانا کھلاؤ ۴؎ رشتے جوڑو سب لوگ سوتے ہوں تو نماز پڑھو سلامتی سے جنت میں چلے جاؤ ۵؎ (ترمذی،ابن ماجہ،دارمی)

 



Total Pages: 441

Go To