We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

کتاب الزکوۃ

زکوۃ  کا بیان  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ زکوۃ  کے لغوی معنی ہیں پاکی اور بڑھنا، رب تعالٰی فرماتا ہے:"قَدْ اَفْلَحَ مَنۡ تَزَکّٰی"۔چونکہ زکوۃ کی برکت سے نفس انسانی بخل کے میل سے پاک و صاف ہوتاہے،نیز اس کی وجہ سے مال میں برکت ہوتی ہے اس لئے اسے زکوۃ کہتے ہیں۔زکوۃ کا سبب بڑھنے والا مال ہے اور اسکے شرائط: اسلام،آزادی،عقل،بلوغ اور قرض سے مال کا خالی ہوناہے لہذا کافر،غلام،بچے اور دیوانے پر زکوۃ  فرض نہیں۔حق یہ ہے کہ زکوۃ کا اجمالی حکم ہجرت سے پہلے آیا اور اس کی تفصیل     ۱۱ھ؁ میں بیان ہوئی لہذا  آیات قرآنیہ میں تعارض نہیں۔کُل چار مالوں میں زکوۃ فرض ہے: سونا چاندی،مال تجارت، جنگل میں چرنے والے جانور،زمینی پیداوار۔(از مرقاۃ و اشعہ)تفصیلی احکام کتب فقہ میں دیکھو۔پیداوار کی زکوۃ دسواں یا بیسواں حصّہ ہے،باقی مال تجارت و سونے چاندی کا چالیسواں حصّہ۔

1772 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ مُعَاذًا إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ: «إِنَّك تَأتي قوما من أهل الْكتاب. فَادْعُهُمْ إِلَى شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ. فَإِنْ هُمْ أطاعوا لذَلِك. فَأَعْلِمْهُمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ. فَإِنْ هم أطاعوا لذَلِك فأعلمهم أَن الله قد فرض عَلَيْهِم صَدَقَة تُؤْخَذ من أغنيائهم فَترد فِي فُقَرَائِهِمْ. فَإِنْ هُمْ أَطَاعُوا لِذَلِكَ. فَإِيَّاكَ وَكَرَائِمَ أَمْوَالِهِمْ وَاتَّقِ دَعْوَةَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّهُ لَيْسَ بَيْنَهَا وَبَين الله حجاب»

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کو یمن کی طرف روانہ کیا ۱؎ تو فرمایا کہ تم اہلِ کتاب قوم کے پاس جارہے ہو۲؎ تو انہیں اس گواہی کی دعوت دینا کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یقینًا محمد اﷲ کے رسول ہیں۳؎   اگر وہ اس میں فرماں برداری کریں تو انہیں بتانا کہ اﷲ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض فرمائیں۴؎ پھر اگر  وہ یہ بھی مان جائیں تو انہیں سکھانا کہ اﷲ نے ا ن پر زکوۃ فرض کی ہے۵؎  جو ان کے مالداروں سے لی جائے گی اور انہی کے فقیروں پر لوٹائی جائے گی۶؎ پھر اگر یہ بھی مان لیں تو ا ن کے بہترین مالوں سے بچنا ۷؎ اورستم رسیدہ کی بد دعا سے ڈرنا کہ اس کے اور رب کے درمیان کوئی آڑ نہیں۸؎(مسلم،بخاری)

۱؎ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ کو یمن کا گورنر بناکربھیجا اور خود بنفس نفیس انہیں ثنیۃ الوداع تک پہنچانے گئے حضرت معاذ بحکم سرکار سواری پر تھے اورحضور انورصلی اللہ علیہ وسلم پیدل،ان سے جدا ہوتے وقت فرمایا کہ اب تم میری قبر پر آؤ گے اور مجھے نہ پاؤ گے جس پر حضرت معاذ بہت روئے۔خیال رہے کہ حضرت معاذ یمن پر جہاد کرنے نہیں جارہے تھے وہ تو پہلے ہی قبضہ میں آچکا تھا بلکہ وہاں کے حاکم بن کر۔

۲؎  اگرچہ یمن میں اہل کتاب بھی تھے اور مشرکین بھی مگرچونکہ اہل کتاب مشرکین سے بہتر ہیں اس لیے خصوصیت سے ان کا ذکر فرمایا۔

 



Total Pages: 441

Go To