Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

زوجین سے مراد بار بار صدقہ یا دن رات میں صدقہ یا علانیہ اور خفیہ صدقہ مراد ہو۔مرقات نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ صدقہ سے ساری نیکیاں مراد ہوں دو روزے دو رکعت نماز وغیرہ کیونکہ فقیر کے لیے نفلی نماز و روزہ ایسا ہے جیسے امیر کے لیے خیرات۔

۲؎ یعنی باب الصدقہ سے یہاں احد پوشیدہ ہے لہذا حدیث پر یہ اعتراض نہیں کہ صرف صدقہ کی وجہ سے جہاد وغیرہ کے دروازوں سے کیوں بلایا گیا۔(مرقات)اور ہوسکتا ہے کہ بہت زیادہ خیرات کرنے والے کو ہر دروازہ سے جانے کا حق ہو اظہار عزت کے لیے۔

۳؎  یعنی جس پر جو عبادت غالب ہوگی وہ جنت کے اسی دروازے سے جائے گا۔عبادت کے غالب ہونے سے مراد نوافل کی زیادتی ہے مثلًا جو شخص نماز فقط فرض و واجب ہی ادا کرتا ہے مگر جہاد کا بہت شوقین ہے ہمیشہ جہاد یا اس کی تیاری میں مشغول رہتا ہے تو وہ جہاد کے راستے سے جنت میں جائے گا۔ریّان رَیٌّ سے بنا جس کے معنے ہیں سرسبزی،سیرانی اور شادابی،چونکہ روزہ دار دنیا میں بحالت روزہ خشک لب،تشنہ دہن رہا اس لیے اس کے واسطے ایسا دروازہ تجویز ہوا جو تشنہ لبی کا عوض ہوجائے۔

۴؎  یعنی جنت میں داخلے کے لیے ایک دروازہ سے بلایا جانا ہی کافی ہے ہر طرف سے پکار پڑنے کی ضرورت نہیں مگر اس پکار میں اس کی عزت افزائی ضرور ہے کہ ہر دروازہ کے دربان چاہیں کہ یہ جنتی ہمارے دروازے سے جائے اور ہمیں شرف خدمت نصیب ہو۔اس جملہ میں مَا نافیہ ہے اور مِنْ ضَرُوْرَۃٍ کی مِنْ زائدہ اور ضَرُوْرَۃ  مَا کا اسم،اَعْلیٰ مَنْ دُعِیَ الخ اس کی خبر۔

۵؎ یعنی جو شخص ساری عبادات میں اول نمبر ہوگا وہ ان سارے دروازوں سے بلایا جائے گا کہ ہر طرف اس کے نام کی دھوم مچ جائے گی اور چونکہ اے صدیق تم ساری ہی نیکیوں میں طاق ہو لہذا تم بھی ان ہی میں سے ہوگے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ علم و عمل میں بعد انبیاء ساری خلق سے افضل ہیں کہ رب تعالٰی نے انہیں اَتْقٰے فرمایا یعنی بڑا ہی پرہیز گار"وَسَیُجَنَّبُہَا الْاَتْقَی الَّذِیۡ "اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مرض وفات میں صدیق اکبر کو امام بنایا،امام بڑے عالم ہی کو بنایا جاتا ہے۔خیال رہے کہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ عام نیکیوں میں سب سے بڑھ کر ہیں اور رب تعالٰی نے بعض خاص نیکیاں آپ کو ایسی عطا فرمائیں جن میں آپ کا کوئی شریک نہیں جیسے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے کندھے پر غار ثور تک لے جانا،اپنے زانو پر سلانا،اپنے کو سانپ سے کٹوانا وغیرہ۔ جب قرآن کریم کی رحل باقی لکڑیوں سے افضل ہے تو جس کا زانو قرآن کریم والے کی رحل بنے وہ تمام خلق سے افضل ہوگا۔دوسرے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر شخص کے ہر دنیوی اخروی حال سے واقف ہیں حتی کہ جانتے ہیں کون جنت میں کہاں جائیگا اور کس دروازہ سے جائے گا،صحابہ کا یہی عقیدہ تھا ورنہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کیوں پوچھتے۔خیال رہے کہ کریموں کا امید دلانا یقین کے لیے ہوتا ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوۡنَ"۔الفاظ حدیث سے معلوم ہورہا ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں ایسے خوش نصیب لوگ بہت ہوں گے جن کے ناموں کی پکار جنت کے تمام دروازں پر پڑے گی،اس جماعت کے امیر صدیق اکبر ہوں گے رضی اللہ عنہ۔

1891 -[4]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا؟» قَالَ أَبُو بكر: أَنا قَالَ: «فن تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جِنَازَةً؟» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالَ: «فَمَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا؟» قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالَ: «فَمَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا؟» . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا اجْتَمَعْنَ فِي امْرِئٍ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ آج تم میں سے کس نے روزہ دار ہوکر صبح کی ۱؎ حضرت ابوبکر نے کہا میں نے فرمایا آج تم میں سے کوئی جنازے کے ساتھ گیا حضرت ابوبکر نے عرض کیا میں فرمایا آج تم میں سے کس نے کسی مسکین کو کھلایا حضرت ابوبکر نے کہا میں نے فرمایا آج تم میں سے کس نے کسی بیمار کی عبادت کی حضرت ابوبکر نے عرض کیا میں نے تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص میں یہ خصلتیں نہیں جمع ہوتیں مگر وہ جنت میں جاتا ہے ۲؎(مسلم)

 



Total Pages: 441

Go To