Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

1889 -[2]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا نقصت صَدَقَة من مَال شَيْئا وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ خیرات مال کم نہیں کرتی ۱؎ اور اﷲ معافی کی وجہ سے بندے کی عزت ہی بڑھاتا ہے ۲؎ اور کوئی شخص اﷲ کے لیے انکسار نہیں کرتا مگر اﷲ اسے بلندی دیتا ہے ۳؎(مسلم)

۱؎ بلکہ مال بڑھاتی ہے زکوۃ دینے والے کی زکوۃ ہر سال بڑھتی ہی رہتی ہے۔تجربہ ہے جو کسان کھیت میں بیج پھینک آتا ہے وہ بظاہر بوریاں خالی کرلیتا ہے لیکن حقیقت میں مع اضافہ کے بھر لیتا ہے،گھر کی رکھی بوریاں چوہے،سسری وغیرہ آفات سے ہلاک ہوجاتی ہیں یا یہ مطلب ہے کہ جس مال میں سے صدقہ نکلتا رہے اس میں سے خرچ کرتے رہو ان شاءاﷲ بڑھتا ہی رہے گا،کنوئیں کا پانی بھرےجاؤ تو بڑھے ہی جائے گا۔

۲؎ یعنی جو بدلہ پر قادر ہو پھر مجرم کو معافی دے دے تو اس سے مجر م کے دل میں اس کی اطاعت اور محبت پیدا ہوجاتی ہے اور اگر بدلہ لیا جائے تو اس کے دل میں بھی انتقام کی آگ بھڑک جاتی ہے۔فتح مکہ کے دن کی عام معافی سے سارے کفار مسلمان ہوکر حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے مطیع فرمان ہوگئے،معافی سے دلوں پر قبضے ہوجاتے ہیں مگر معافی اپنے حقوق میں چاہیئے  نہ کہ شرعی حقوق میں۔قومی ملکی،دینی مجرموں کو کبھی معاف نہ کرو اپنے مجرم کو معاف کردو۔

۳؎  انکساری جو خود داری کے ساتھ ہو وہ بڑی بہتر ہے اس کا انجام بلندیٔ درجات ہے مگر بے غیرتی کی انکساری انکساری نہیں بلکہ احساس پستی ہے،جہاد میں کفار کے مقابل فخر کرنا عبادت ہے ،مسلمان بھائی کے سامنے جھکنا ثواب"اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیۡنَہُمْ

1890 -[3] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ مِنْ شَيْءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ دُعِيَ مِنْ أَبْوَاب الْجنَّة واللجنة أَبْوَابٌ فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَاد دعِي من بَاب الْجِهَاد وَمن كَانَ مَنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ» . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَا عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا؟ قَالَ: «نعم وَأَرْجُو أَن تكون مِنْهُم»

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اﷲ کی راہ میں کسی چیز کا جوڑا خیرات کرے ۱؎ تو جنت کے دروازں سے بلایا جائے گا ۲؎ جنت کے بہت دروازے ہیں تو جو نماز والوں سے ہوگا وہ نماز کے دروازے سے پکاراجائے گا اور جو جہاد والوں سے ہوگا وہ جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا اور جو صدقہ والوں سے ہوگا وہ صدقہ کے دروازے سے بلایا جائے گا اور جو روزہ والوں سے ہوگا وہ دروازۂ ریان سے بلایا جائے گا ۳؎ تب حضرت ابوبکر نے عرض کیا کہ اس کی ضرورت تو نہیں کہ کوئی تمام دروازوں سے بلایا جائے ۴؎  مگر کیا کوئی ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا حضور نے فرمایا ہاں اور مجھے امید ہے کہ تم ان میں سے ہو ۵؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی ایک جنس کی دو چیزیں جیسے دو پیسے دو روپے دو کپڑے دو روٹیاں وغیرہ۔لفظ زوج دو کے مجموعہ کو بھی کہتے ہیں اور دو میں سے ہر ایک کو بھی جیسے خاوند بیوی کو زوجین کہتے ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہیں:"مِنۡ کُلٍّ زَوْجَیۡنِ اثْنَیۡنِاور ممکن ہے کہ



Total Pages: 441

Go To