We have moved all non-book items like Speeches, Madani Pearls, Pamphlets, Catalogs etc. in "Pamphlet Library"

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

باب فضل الصدقۃ

باب صدقہ کی فضیلت  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

 ۱؎ صدقہ صدق سے بنا،بمعنی سچائی،چونکہ خیرات سخی کے سچے مؤمن ہونے کی علامت ہے اس لیے اسے صدقہ کہتے ہیں۔مطلقًا صدقہ سے مالی خیرات مراد ہوتی ہے نفل ہو یا فرض یہاں وہ مراد ہے اگرچہ بعض بدنی اعمال کو بھی صدقہ کہا گیا ہے یعنی حکمی صدقہ۔

1888 -[1] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا الطَّيِّبَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتَقَبَّلُهَا بِيَمِينِهِ ثُمَّ يُرَبِّيهَا لِصَاحِبِهَا كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ حَتَّى تَكُونَ مِثْلَ الْجَبَل»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو حلال کمائی سے چھوارے کی برابر صدقہ کرے ۱؎ اﷲ تعالٰی صرف حلال ہی کو قبول کرتا ہے ۲؎ تو اﷲ اسے داہنے ہاتھ میں قبول کرتا ہے پھر صدقہ والے کے لیے اس کی ایسی پرورش کرتا ہی جیسے تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے کی حتی کہ پہاڑ کی طرح ہوجاتا ہے۳؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی معمولی سے معمولی چیز اﷲ کی راہ میں دے،عرب شریف میں کھجور معمولی چیز ہے،پھر اس کی قاش تو بہت ہی معمولی ہوئی۔

۲؎ یہ بہت ہی اہم قانون ہے کہ خیرات حلال کمائی سے کی جائے تب ہی قبول ہوگی،حتی کہ حج بھی طیب و پاک کمائی سے کرے۔یہاں دو قاعدے یاد رکھنا چاہئیں:ایک یہ کہ مال مخلوط سے اجرت،صدقہ،دعوت وغیرہ لینا جائز ہے،دیکھو موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے ہاں اور حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طالب کے ہاں پرورش پائی جن کا مال مخلوط تھا،اگر اس مال پر حرام کے احکام جاری ہوتے تو رب تعالٰی اپنے ان محبوبوں کو وہاں پرورش نہ کراتا۔دوسرا یہ کہ مال حرام دو قسم کا ہے:ایک وہ جو انسان کی ملکیت میں آتا ہی نہیں جیسے زنا کی اجرت،سود کا پیسہ اوربیع باطل کے معاوضے سور شراب وغیرہ کی قیمتیں۔دوسرا وہ کہ مالک کی ملک میں آجاتاہے اگرچہ مالک اس کاروبار پر گنہگار ہوتا ہےجیسے بیع بالشرط وغیرہ تمام فاسد بیعوں کی قیمت اور ناجائز پیشوں(گانے،بجانے،داڑھی مونڈنے وغیرہ)کی اجرت۔پہلی قسم کا حرام کسی کے قبضہ میں پہنچے حرام ہی رہے گاکیونکہ پہلا شخص ہی اس کا مالک نہ بنا اور دوسری قسم کا حرام دوسرے کی ملک میں پہنچ کر اس کے لیے حلال ہوگا۔وہ جو فقہاء فرماتے ہیں کہ جس کے پاس حرام یا مشکوک پیسہ ہو وہ دوسرے سے قرض لے کر حج یا صدقہ کرے اور اپنے مال سے وہ قرض ادا کردے اس سے مراد یہی آخری حرام ہے کیونکہ ملک بدلنے سے حکم بدل جاتا ہے حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں"لَھَا صَدَقَۃٌ وَلَنَا ھَدْیَۃٌ۔

۳؎  داہنے ہاتھ میں قبول کرنے سے مراد راضی ہوکر قبول فرماتاہے اور مطلب یہ ہے کہ مال و نیت خیر کا صدقہ رضائے الٰہی کا باعث ہے اور وہ صدقہ کے وقت سے لے کر قیامت تک بھاری ہوتا رہے گا حتی کہ میزان میں سارے گناہوں پر غالب آجائے گا جیسے اچھی زمین میں بوئی ہوئی ادرک آلو وغیرہ۔اس حدیث کی تائید اس آیت سے ہے "یَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ

1889 -[2]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا نقصت صَدَقَة من مَال شَيْئا وَمَا زَادَ اللَّهُ عَبْدًا بِعَفْوٍ إِلَّا عِزًّا وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ خیرات مال کم نہیں کرتی ۱؎ اور اﷲ معافی کی وجہ سے بندے کی عزت ہی بڑھاتا ہے ۲؎ اور کوئی شخص اﷲ کے لیے انکسار نہیں کرتا مگر اﷲ اسے بلندی دیتا ہے ۳؎(مسلم)

 



Total Pages: 441

Go To