Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 3

1885 -[27]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى بِلَالٍ وَعِنْدَهُ صُبْرَةٌ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا بِلَالُ؟» قَالَ: شَيْءٌ ادَّخَرْتُهُ لِغَدٍ. فَقَالَ: «أَمَا تَخْشَى أَنْ تَرَى لَهُ غَدًا بخارا فِي نَار جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْفِقْ بِلَالُ وَلَا تَخْشَ من ذِي الْعَرْش إقلالا»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال کے پاس تشریف لائے ان کے پاس کھجوروں کا ڈھیر تھا فرمایا اے بلال یہ کیا عرض کیا کہ اسے میں نے کل کے لیے جمع کیا ہے فرمایا کیا تمہیں اس سے خوف نہیں کہ تم کل اس کے سبب دوزخ کی آگ میں بخار قیامت کے دن دیکھو ۱؎ اے بلال خرچ کرو اور عرش والے سے کمی کا خطرہ نہ کرو۔

۱؎ اس میں حضرت بلال کو انتہائی تقویٰ اور ترک دنیا کی تعلیم ہے اور توکّل سے اعلیٰ توکّل کی طرف ترقی دیناہے یعنی اے بلال میں جس درجہ پر تمہیں پہنچانا چاہتا ہوں وہ جب ہی حاصل ہوگا جب کہ تم اپنے پاس اتنا بھی نہ رکھو تاکہ تمہیں قیامت کے دن اس کا حساب دینے میں کچھ بھی نہ ٹھہرنا پڑے یہی مطلب ہے دوزخ کے بخار دیکھنے کا،حضرت بلال اس وقت تن تنہا تھے،اہل وعیال نہ رکھتے تھے،آپ کے ذمہ کسی کے حقوق نہ تھے،فرمایا اکیلے دم کے لیے جمع کرنے کی فکر کیوں لگاتے ہیں رب ہمارے آستانے سے تمہیں دیئے جائے تم کھائے جاؤ۔صوفیائے کرام اپنے بعض مریدین کو کبھی چلوں سے مجاہدہ کراتے ہیں۔اس زمانہ میں ترک دنیا ترک حیوانات کامل کراتے ہیں ان کی اصل یہ حدیث ہے۔یہ حدیث جمع دنیا کے خلاف نہیں،اگر مال جمع کرنا حرام ہوتا تو اسلام کا ایک رکن یعنی زکوۃ ہی فوت ہوجاتی کہ زکوۃ واجب ہی جب ہوتی ہے جب مسلمان کے پاس ایک سال تک بقدر نصاب مال جمع رہے۔

1886 -[28]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «السَّخَاءُ شَجَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ فَمَنْ كَانَ سَخِيًّا أَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْهَا فَلَمْ يَتْرُكْهُ الْغُصْنُ حَتَّى يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ. وَالشُّحُّ شَجَرَةٌ فِي النَّارِ فَمَنْ كَانَ شَحِيحًا أَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْهَا فَلَمْ يَتْرُكْهُ الْغُصْنُ حَتَّى يُدْخِلَهُ النَّارَ» . رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سخاوت جنت میں ایک درخت ہے جو سخی ہوا اس نے اس درخت کی شاخ پکڑلی ۱؎ وہ شاخ اسے نہ چھوڑے گی حتی کہ اسے جنت میں داخل کردے گی ۲؎ اور بخل آگ میں درخت ہے جو بخیل ہوا اس نے اس کی شاخ پکڑی وہ اسے نہ چھوڑے گی حتی کہ آگ میں داخل کرے گی۳؎ یہ دونوں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیں۔

۱؎ یعنی سخاوت کی جڑ جنت میں ہے اور اس کی شاخیں دنیا میں،چونکہ سخاوت کی قسمیں بہت ہیں اس لیے فرمایا گیا کہ اس درخت کی دنیا میں شاخیں بہت پھیلی ہوئی ہیں جیسے قرآن کریم فرماتا ہے کہ کلمہ طیبہ کی جڑ مسلمان کے قلب میں ہے اور شاخیں آسمان میں ہمیشہ اپنے پھل دیتا ہے اس آیت میں بھی تمثیل ہے اس حدیث میں بھی۔

۲؎  شریعت میں سخاوت کا ادنی درجہ یہ ہے کہ انسان فرض صدقے اداکرے اور طریقت میں ادنے درجہ یہ ہے کہ صرف فرض پر قناعت نہ کرے نوافل صدقے بھی دے۔حقیقت و معرفت والوں کے ہاں اس کا ادنے درجے یہ ہے کہ اپنی ضروریات پر دوسروں کی ضروریات کو ترجیح دے ان میں سے ہر درجے کے صدقے کے نتیجے مختلف ہیں۔

۳؎  جو معانی سخاوت کے عرض کئے جاچکے ہیں اس کے مقابل بخل کے بھی معانی ہیں۔

1887 -[29]

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَادِرُوا بِالصَّدَقَةِ فَإِنَّ الْبَلَاءَ لَا يَتَخَطَّاهَا» . رَوَاهُ رَزِينٌ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ میں جلدی کرو ۱؎ کہ بلاء اس سے آگے نہیں بڑھتی ۲؎(رزین)

۱؎ اس جملہ کے دو معنے ہوسکتے ہیں:ایک یہ کہ جب کسی قسم کی جانی یا مالی بلا آئے تو بہت جلد صدقے دینا شروع کردو باقی تمام تدبیریں علاج وغیرہ بعد میں کرو تاکہ ان صدقات کی برکت سے اگلی تدبیریں بھی کامیاب ہوں۔بعض لوگ آفت آتے ہی میلاد



Total Pages: 441

Go To