Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

949 -[11]

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: أَخَذَ بِيَدِي رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: «إِنِّي لَأُحِبُّكَ يَا مُعَاذُ» . فَقُلْتُ: وَأَنَا أُحِبُّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: " فَلَا تَدَعْ أَنْ تَقُولَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ: رَبِّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَ شُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُد وَ النَّسَائِيّ إِلَّا أَنَّ أَبَا دَاوُدَ لَمْ يَذْكُرْ: قَالَ معَاذ وَأَنا أحبك

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا فرمایا اے معاذ میں تم سے محبت کرتا ہوں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ میں بھی آپ سے محبت کرتا ہوں ۱؎ فرمایا کہ تو ہر نماز کے بعد یہ کہنا نہ چھوڑنا کہ یارب اپنے ذکر اپنے شکر اور اپنی اچھی عبادت پر میری مدد کر۲؎(ابوداؤد،نسائی)مگر ابوداؤد نے یہ ذکر نہ کیا کہ معاذ نے کہا میں محبت کرتا ہوں آپ سے۔

 ۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ جس سے محبت ہواسے خبر دے دے جیسا کہ بعض احادیث میں صراحتًا آیا ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کسی کے دلی حالات اور محبت وعدوات سے بے خبر نہیں۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے ہم اس سے محبت کرتے ہیں جنہیں پتھر کے دل کا حال معلوم ہے کیا انہیں انسانوں کے دل کا حال معلوم نہ ہوگا۔

۲؎ یہ دعا غالبًا سلام سے پہلے نماز کے اندر مانگی جائے اسی لیے صاحب مشکوۃ اس باب میں یہ حدیث لائے۔

950 -[12

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ وَعَنْ يَسَارِهِ: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ» حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ الْأَيْسَرِ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ وَالتِّرْمِذِيّ وَلَمْ يَذْكُرِ التِّرْمِذِيُّ حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ

951 -[13] وَرَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی دائیں جانب یوں سلام پھیرتے السلام علیکم ورحمۃ اﷲ حتی کہ آپ کے دائیں رخسار کی سفیدی دیکھی جاتی تھی اور اپنی بائیں جانب یوں کہ السلام علیکم ورحمۃ اﷲ حتی کہ آپ کے بائیں رخسار کی سفیدی دیکھی جاتی ۱؎ (ابو داؤد،ترمذی،نسائی)ترمذی نے یہ ذکر نہ کیا کہ آپ کے رخسار کی سفیدی دیکھی جاتی ابن ماجہ نے عمار ابن یاسر سے روایت کیا۔

۱؎  یہ حدیث حنفیوں کی دلیل ہے کہ نماز کے سلام میں وَبَرَکَاتُہٗ نہ بڑھائے،بعض شوافع وَبَرَکَاتُہٗبھی کہتے ہیں۔

952 -[14]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَ أَكْثَرُ انْصِرَافِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ إِلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ إِلَى حُجْرَتِهِ. رَوَاهُ فِي شرح السّنة

 روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی نماز سے زیادہ پھرنابائیں طرف اپنے حجرے کی جانب ہوتا ۱؎(شرح سنہ)

۱؎ یہ حدیث سوائے شرح سنہ کے اورکسی کتاب میں نہیں۔(مرقاۃ)اگر یہ حدیث صحیح ہے تو یہاں اضافی اکثریت مراد نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جب حضور کو نماز کے بعد فورًا حجرے میں تشریف لے جانا ہوتا تو ادھر رخ کرکے دعا مانگتے تاکہ جانے میں آسانی ہو۔(ازمرقاۃ)

953 -[15]

وَعَن عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ عَنِ الْمُغِيرَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُصَلِّي الْإِمَامُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ حَتَّى يتَحَوَّل» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَقَالَ عَطاء الخرساني لم يدْرك الْمُغيرَة

روایت ہے حضرت عطاء خراسانی سے ۱؎  وہ حضرت مغیرہ سے راوی فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ امام وہاں نماز نہ پڑھے جہاں فرض پڑھے ہیں حتی کہ کچھ ہٹ جائے ۲؎(ابوداؤد)اور فرمایا کہ عطاء خراسانی نے مغیرہ کو نہ پایا ۳؎

۱؎  آپ تابعی ہیں،بلخی ہیں،   ۵۰ھ؁ میں پیدا ہوئے اور ایک سو پینتیس۱۳۵ میں وفات پائی۔ ابو حاتم کہتے ہیں آپ ثقہ تھے۔

 



Total Pages: 519

Go To