Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

944 -[6]

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى أَقْبَلَ علينا بِوَجْهِهِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت سمرہ ابن جندب سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھ لیتے تو ہم پر اپنے چہرہ سے متوجہ ہوتے ۱؎(بخاری)

۱؎ اس طرح کہ سلام کے بعد کبھی داہنی طرف پھیرتے کبھی بائیں طرف،کبھی قبلہ کو پشت کرکے مقتدیوں کی جانب رخ فرمالیتے،یہ لفظ تینوں حالتوں کو شامل ہے لیکن یہ حال بھی دائمی نہ تھا بلکہ اکثری ورنہ کبھی سرکار قبلہ رو بیٹھ کر ہی دعا مانگتے تھے۔

945 -[7]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دائیں جانب پھرتے تھے ۱؎

۱؎  یعنی اکثر اوقات سلام پھیر کر دعا کے لیے داہنی جانب رخ فرماتے تھے۔اس لیئے فقہاء فرماتے ہیں کہ امام دعا کے وقت ہر طرف پھر سکتا ہے مگر داہنی طرف پھرنا بہتر کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو داہنی جانب محبوب تھی۔(از مرقاۃ)

946 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَا يَجْعَلْ أَحَدُكُمْ لِلشَّيْطَانِ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِهِ يَرَى أَنَّ حَقًّا عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْصَرِفَ إِلَّا عَنْ يَمِينِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرًا يَنْصَرِفُ عَن يسَاره

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ تم میں سے کوئی اپنی نماز سے شیطان کا حصہ نہ بنائے یہ سمجھے کہ اس پر واجب ہے کہ ہمیشہ دائیں جانب ہی پھرا کرے ۱؎ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت دفعہ بائیں جانب پھرتے دیکھا ۲؎(مسلم،بخاری)

۱؎ یعنی یہ اعتقاد رکھنا کہ نماز کے بعد امام پر داہنی جانب پھرکر بیٹھنا واجب ہے اور بائیں طرف پھرنا جائز ہی نہیں غلط عقیدہ ہے،ایسا سمجھنے والا اپنی عبادتوں میں شیطان کا حصہ رکھ ر ہا ہے کیونکہ غلط عقیدہ رکھ کر نماز پڑھنا نماز کے نقصان کا باعث ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ غیر ضروری چیز کو فرض سمجھنا یونہی مباح کو حرام جاننا فساد عقیدہ ہے۔اسی حدیث میں اشارۃً فرمایا کہ اگر کوئی امام ہمیشہ داہنی جانب پھرے لیکن اسے واجب نہ سمجھے تو کوئی مضائقہ نہیں جیسا کہ یَرَی سے معلوم ہوا،لہذا میلاد شریف یا گیارھویں مستحب جان کر ہمیشہ کرنا ناجائز نہیں، واجب سمجھنا اور ہے اور کسی کام کو ہمیشہ کرنا کچھ اور ہم ہمیشہ جمعہ کو غسل اور لباس تبدیل کرتے ہیں ہمیشہ رمضان میں دینی مدارس کی چھٹیاں کرتے ہیں مگر واجب نہیں جانتے، کوئی مضائقہ نہیں۔سرکار فرماتے ہیں کہ بہتر کام وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے۔

 ۲؎ یہ بہت اضافی نہیں بلکہ حقیقی ہے کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم اکثر داہنی جانب پھرتے تھے کم بائیں جانب جیسا کہ اگلی حدیث میں ہے۔

947 -[9]

وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ سَوَّلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْبَبْنَا أَنْ نَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ يُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَالَ: فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ أَو تجمع عِبَادك» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت براء سے فرماتے ہیں کہ ہم جب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو آپ کی دائیں جانب ہونا پسند کرتے تھے تاکہ آپ ہم پر اپنے چہرے سے متوجہ ہوں ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کو یہ کہتے سنایارب مجھے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا یا جمع کرے گا ۲؎ (مسلم)

 



Total Pages: 519

Go To