Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

936 -[18]

وَعَن رويفع أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ صَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ وَقَالَ: اللَّهُمَّ أَنْزِلْهُ الْمَقْعَدَ الْمُقَرَّبَ عِنْدَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِي ". رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حصرت رویفع سے ۱؎ کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو حضور محمد پر درود پڑھے اور کہے الٰہی  انہیں قیامت کے دن اپنی قریب ٹھکانے میں اتار ۲؎  تو اس کے لیے میری شفاعت ضروری ہوگئی (احمد)

۱؎  آپ کا نام رویفع ابن ثابت انصاری ہے،آپ کو امیرمعاویہ نے طرابلس کا حاکم بنایا اور آپ نے افریقہ پر  ۴۷ھ؁ میں جہاد کیا اور آپ    ۵۶ھ؁ مقام رقہ میں فوت ہوئے۔

۲؎ اس ٹھکانے سے مراد یا تو مقام محمود ہے جو عرش کے دائیں جانب ہے جہاں حضور جلوہ گر ہوں گے اور تمام عالم آپ کی حمد کرے گا یا مقام وسیلہ ہے جو جنت میں اعلیٰ مقام ہے یہ،دونوں مقام حضور پرنور شافع یوم النشور کے لیے نامزد ہوچکے ہیں اب حضور علیہ السلام کے لیے ان کی دعا کرنا حقیقًا اپنے لیے رب سے دعا ہے کہ ہمیں حضور علیہ السلام کی شفاعت کا حق دار بنا۔

937 -[19]

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى دَخَلَ نَخْلًا فَسَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ تَعَالَى قَدْ تَوَفَّاهُ. قَالَ: فَجِئْتُ أَنْظُرُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: «مَا لَكَ؟» فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ. قَالَ: فَقَالَ:" إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ لي: أَلا أُبَشِّرك أَن اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ لَكَ مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَاةً صَلَّيْتُ عَلَيْهِ وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سلمت عَلَيْهِ ". رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن عوف سے فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے حتی کہ ایک باغ میں پہنچے تو بہت دراز سجدہ کیا ۱؎ حتی کہ مجھے خوف ہوا کہ اﷲ تعالٰی نے آپ کو وفات دے دی ہو فرماتے ہیں میں آکر دیکھنے لگا تو آ پ نے سر اٹھایا فرمایا کیا ہے تو میں نے یہ عرض کیا۲؎  تب فرمایا کہ جبریل علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا کہ میں آپ کو یہ خوشخبری نہ دوں کہ اﷲ آپ سے فرماتا ہے جو آپ پر درود بھیجے گا میں اس پر رحمت کروں گا اور جو آپ پر سلام کہے گا میں اس پر سلام بھیجوں گا۳؎ (احمد)

۱؎ سجدے سے مراد یا نفل کا سجدہ ہے یا علیحدہ مستقل سجدہ۔دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔

۲؎  یعنی اپنے دل کا خدشہ،خیال رہے کہ انبیائے کرام کے لیے ایسی حالت میں وفات پاجانا اور سجدہ میں ٹھہرا رہنا گر نہ جانا باعث تعجب نہیں سلیمان علیہ السلام کی وفات نماز کے قیام میں ہوئی اور ایک لاٹھی کے سہارے آپ چھ ماہ یا ایک سال کھڑے رہے لہذا ان صحابی کے اس خیال پر کوئی اعتراض نہیں۔

۳؎ غالب یہ ہے کہ رب کی رحمت بھیجنے سے مراد دس رحمتیں ہیں،اس کے سلام سے مراد دس سلام جیسا کہ پچھلی احادیث میں گزرا وہ احادیث اس کی شرح ہیں۔

938 -[20]

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ الدُّعَاءَ مَوْقُوفٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ لَا يَصْعَدُ مِنْهُ شَيْءٌ حَتَّى تُصَلِّيَ عَلَى نبيك. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ دعا آسمان اور زمین کے درمیان ٹھہری رہتی ہے اس سے کوئی چیز نہیں چڑھتی حتی کہ تم اپنے نبی پر درود بھیجو ۱؎ (ترمذی)

 



Total Pages: 519

Go To