$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

931 -[13]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ مَعَهُ فَلَمَّا جَلَسْتُ بَدَأْتُ بِالثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى ثُمَّ الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ دَعَوْتُ لِنَفْسِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَلْ تعطه سل تعطه» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر آپ کے ساتھ تھے ۱؎ جب میں بیٹھا تو اﷲ کی حمد سے ابتداء کی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پھر میں نے اپنے لیے دعا کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مانگ لے دیا جائے گا مانگ لے دیا جائے گا ۲؎ (ترمذی)

۱؎ یعنی یہ حضرات نماز سے فارغ ہو کر مسجد میں ہی تشریف فرما تھے میں نوافل وغیرہ پڑھ رہا تھا کیونکہ حضرت ابن مسعود علیحدہ فرض نہیں پڑھتے تھے جماعت سے پڑھتے تھے۔معلوم ہوا کہ نماز کے بعد مسجد میں کچھ ٹھہرنا سنت ہے۔

۲؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ نماز کے بعد دعا مانگنا سنت ہے۔دوسرے یہ کہ دعا میں ترتیب یہ چاہیے کہ پہلے حمد الٰہی  کرے پھر درود شریف پڑھے پھر اپنے گناہوں کی معافی چاہے جیسا کہ بعض روایات میں ہے پھر دعا مانگے۔ شامی نے فرمایا کہ دوران دعا میں بار بار درود شریف پڑھتا رہے درودوں سے بھری ہوئی دعا ان شاءاﷲ رد نہیں ہوتی۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

932 -[14]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَكْتَالَ بِالْمِكْيَالِ الْأَوْفَى إِذَا صَلَّى عَلَيْنَا أَهْلَ الْبَيْتِ فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ صَلِّ على مُحَمَّد وَأَزْوَاجِهِ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ وَذُرِّيَّتِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حُمَيْدٌ مَجِيدٌ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جسے پسند ہو کہ اس کو پوری نآپ ملے ۱؎ تو جب ہم اہل بیت پر درود پڑھے تو کہے الٰہی  اُمی نبی حضور محمد پر ۲؎ اور مسلمانوں کی ماؤں یعنی حضور کی بیویوں پر اور ان کی اولاد پر اور اہل بیت پر۳؎ رحمت بھیج جیسے آل ابراہیم پر تو نے رحمت بھیجی ۴؎ تو حمد و بزرگی والا ہے۔(ابوداؤد)

۱؎ یعنی درود کا پورا ثواب ملےاور دعا پورے طور پر قبول ہو،نیز ہر مراد حاصل ہو۔

۲؎ حضور نبی بھی ہیں اور امی بھی۔نبی کے معنی ہیں غیب کی خبر دینے والا یا امت کی خبر رکھنے والا یا بے کسوں کی خبر لینے والا یا بڑی شان والا۔یہ لفظ نَبَاءٌ سے بنا یا نَبُوَّۃٌ سے۔شریعت میں نبی وہ انسان ہے جس پر وحی کی جائے تبلیغ کا حکم ہو یا نہ ہو رسول وہ ہیں جن پر وحی بھی ہو اور تبلیغ کا حکم بھی۔امّی ام کی طرف منسوب ہے بمعنی ماں یا اصل حضور کے امی ہونے کے یہ معنی ہیں کہ آپ اُمُّ القُریٰ یعنی مکہ معظمہ کے رہنے والے ہیں،مکہ معظمہ ساری زمین کی اصل ہے لہذا اُمُّ القُریٰ کہلاتا ہے یا یہ کہ آپ بغیر کسی سے سیکھے شکم مادر سے عالم عارف باﷲ پیدا ہوئے یا یہ کہ آپ ام الکتاب یعنی لوح محفوظ کے عالم و حافظ ہیں،آپ بڑی شاندار ماں کے فرزند ہیں کہ آمنہ خاتون جیسی ماں نہ کوئی ہوئی نہ ہو رضی اللہ عنہا۔سیدنا آمنہ خاتون کے فضائل ہماری کتاب تفسیر نعیمی جلد اول میں دیکھو۔

۳؎ یہ عطف تفسیری ہے کیونکہ حضور علیہ السلام کی بیویاں اور اولاد ہی تو اہل بیت ہیں،حضور علیہ السلام کی ساری بیویاں عزت و احترام اور نکاح کی حرمت کے لحاظ سے مسلمانوں کی مائیں ہیں اگرچہ ان سے پردہ واجب،ان کی میراث کا استحقاق نہیں،ان کی اولاد سے امت کا نکاح جائز یعنی وہ بہنیں نہیں۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html