Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۳؎ یعنی سارے درود وظیفے دعائیں چھوڑ دوں گا سب کی بجائے درود ہی پڑھوں گا کیونکہ اپنے لیے دعائیں مانگنے سے بہتر یہ ہے کہ ہر وقت آپ کو دعائیں دیا کروں۔

۴؎  یعنی اگر تم نے ایسا کرلیا تو تمہاری دین و دنیا دونوں سنبھل جائیں گی، دنیا مین رنج و غم دفع ہوں گی،آخرت میں گناہوں کی معافی ہوگی۔اسی بنا پر علما فرماتے ہیں کہ جو تمام دعائیں وظیفے چھوڑ کر ہمیشہ کثرت سے درود شریف پڑھا کرے تو اسے بغیر مانگے سب کچھ ملے گا اور دین و دنیا کی مشکلیں خود بخود حل ہوں گی۔ ان احادیث سے پتہ لگا کہ حضور پر درود پڑھنا درحقیقت رب سے اپنے لیے بھیک مانگنا ہے،ہمارے بھکاری ہمارے بچوں کو دعائیں دے کر ہم سے مانگتے ہیں ہم رب کے بھکاری ہیں اس کے حبیب کو دعائیں دے کر اس سے بھیک مانگیں ہمارے درود سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا بھلا نہیں ہوتا بلکہ ہمارا اپنا بھلا ہوتا ہے،اس تقریر سے چکڑالویوں کا وہ اعتراض بھی اٹھ گیا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر وقت رحمتوں کی بارش ہورہی ہے تو ان کے لیے دعائے رحمت کرنے سے فائدہ کیا؟ شیخ عبدالحق فرماتے ہیں کہ مجھے عبدالوہاب متقی جب بھی مدینہ سے وداع کرتے تو فرماتے کہ سفر حج میں فرائض کے بعد درود سے بڑھ کر کوئی دعا نہیں اپنے سارے اوقات درود میں گھیرو اور اپنے کو درود کے رنگ میں رنگ لو۔

930 -[12]

وَعَن فضَالة بن عُبَيْدٍ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ فَصَلَّى فَقَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَجِلْتَ أَيُّهَا الْمُصَلِّي إِذَا صَلَّيْتَ فَقَعَدْتَ فَاحْمَدِ اللَّهَ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ وَصَلِّ عَلَيَّ ثُمَّ ادْعُهُ» . قَالَ: ثُمَّ صَلَّى رَجُلٌ آخَرُ بَعْدَ ذَلِكَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَصَلَّى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَيُّهَا الْمُصَلِّي ادْعُ تُجَبْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ نَحوه

روایت ہے حضرت فضالہ ابن عبید سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا اس نے نماز پڑھی پھر کہا الٰہی  مجھے بخش دے اور رحم کر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے نمازی تو نے جلدی کی جب تو نماز پڑھ کر بیٹھے تو اﷲ کی حمد کر جس کے وہ لائق ہے اور مجھ پر درود بھیج پھر دعا کر۲؎ فرماتے ہیں اس کے بعد دوسرے شخص نے نماز پڑھی پھر اﷲ کی حمد اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا تو فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے نمازی مانگ قبول ہوگی ۳؎ ترمذی،ابوداؤد،نسائی نے اس کی مثل روایت کی ۴؎

۱؎ آپ صحابی،انصاری،اوسی ہیں،کنیت ابو محمد ہے،غزوہ احد و خیبر میں حاضر رہے، بیعت رضوان میں شریک تھے، دمشق میں قیام رہا، امیر معاویہ کی طرف سے وہاں کے قاضی رہے، ۵۳ھ؁ میں وہیں وفات پائی۔

۲؎ کیونکہ رب دینے والا ہے اور اس کے حبیب دلوانے والے اور بانٹنے والے یا یوں کہو کہ رب سے مانگنا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے مانگنا ہے لہذا حمد و صلوۃ کے بعد مانگو۔

۳؎ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی دعا بغیر حمد صلوۃ قبول نہیں ہوتی یہ دونوں قبول دعا کی شرطیں ہیں۔

۴؎ ایسے ہی اسے ابن خزیمہ حاکم اور ابن حبان نے نقل کیا ترمذی نے اسے صحیح کہا۔

931 -[13]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ مَعَهُ فَلَمَّا جَلَسْتُ بَدَأْتُ بِالثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى ثُمَّ الصَّلَاةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ دَعَوْتُ لِنَفْسِي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَلْ تعطه سل تعطه» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر و عمر آپ کے ساتھ تھے ۱؎ جب میں بیٹھا تو اﷲ کی حمد سے ابتداء کی پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پھر میں نے اپنے لیے دعا کی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مانگ لے دیا جائے گا مانگ لے دیا جائے گا ۲؎ (ترمذی)

 



Total Pages: 519

Go To