Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

یہ تینوں چیزیں مسلمانوں کے لیے مفید ہیں،کافر کسی نیکی سے جنتی نہیں ہوسکتا،ہاں بعض نیکیوں کی وجہ سے اسے ایمان لانے کی توفیق مل جاتی ہے اور بعض کی برکت سے اس کا عذاب ہلکا ہوجاتا ہے۔

928 -[10]

وَعَن أبي طَلْحَة أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ وَالْبِشْرُ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ: " إِنَّهُ جَاءَنِي جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّ رَبَّكَ يَقُولُ أَمَا يُرْضِيكَ يَا مُحَمَّدُ أَنْ لَا يُصَلِّيَ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا صَلَّيْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَلَا يُسَلِّمُ عَلَيْكَ أَحَدٌ مِنْ أُمَّتِكَ إِلَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عَشْرًا؟ ". رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ

روایت ہے حضرت ابوطلحہ سے ۱؎  کہ ایک دن رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور خوشی آپ کے چہرے انور میں تھی فرمایا کہ میرے پاس حضرت جبرئیل آئے عرض کیا کہ آپ کا رب فرماتا ہے اے محمد کیا تم اس پر راضی نہیں کہ تمہارا کوئی امتی تم پر ایک بار درود نہ بھیجے مگر میں اس پر دس رحمتیں کروں اور آپ کا کوئی امتی آپ پر سلام نہ بھیجے مگر میں اس پر دس سلام بھیجوں ۲؎ (نسائی،دارمی)۳؎

۱؎ آپ کا نام سہل ابن زید ہے،حضرت انس کے سوتیلے والد ہیں،آپ کے حالات پہلے بیان ہوچکے۔

۲؎ رب کے سلام بھیجنے سے مراد یا تو بذریعہ ملائکہ اسے سلام کہلواتا ہے یا آفتوں اور مصیبتوں سے سلامت رکھنا۔حضور کویہ خوشخبری اس لیے دی گئی کہ آپ کو اپنی امت کی راحت سے بہت خوشی ہوتی ہے جیسے کہ اپنی امت کی تکلیف سے غم ہوتا ہے یہ حدیث اس آیت کی مؤیّد ہے "وَ لَسَوْفَ یُعْطِیۡکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی

۳؎ اس حدیث کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں،حاکم نے مستدرک میں، ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور احمد نے بھی روایت کیا،روایت حاکم کے اخیر میں ہے کہ اس پر میں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔

929 -[11]

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُكْثِرُ الصَّلَاةَ عَلَيْكَ فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْ صَلَاتِي؟ فَقَالَ: «مَا شِئْتَ» قُلْتُ: الرُّبُعَ؟ قَالَ: «مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» . قُلْتُ: النِّصْفَ؟ قَالَ: «مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» قُلْتُ: فَالثُّلُثَيْنِ؟ قَالَ: «مَا شِئْتَ فَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» قُلْتُ: أَجْعَلُ لَكَ صَلَاتِي كُلَّهَا؟ قَالَ: «إِذا يكفى همك وَيكفر لَك ذَنْبك» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابی ابن کعب سے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ میں آپ پر بہت درود پڑھتا ہوں تو درود کتنا مقررکروں ۱؎ فرمایا جتنا چاہو، میں نے کہا چہارم فرمایا جتنا چاہو اگر درود بڑھا دو تو تمہارے لیے بہتر ہے میں نے کہا آدھا فرمایا جتنا چاہو اگر درود بڑھا دو تو تمہارے لیے بہتر ہے میں نے کہا دو تہائی تو فرمایا جتنا چاہو لیکن اگر درود بڑھا دو تو تمہارے لیے بہتر ہے۲؎  میں نے کہا میں سارا درود وہی پڑھوں گا۳؎ فرمایا تب تو تمہارے غموں کو کافی ہوگا اور تمہارے گناہ مٹا دے گا۴؎ (ترمذی)

۱؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں صلوۃ سے مراد دعائیں ہیں۔ منشاءسوال یہ ہے کہ میرے لیے حد مقرر فرمادی جائے کہ اپنے تمام درود وظیفوں میں درود کتنا پڑھوں اور باقی ذکر اذکار دعائیں کتنی۔

۲؎ یعنی زیادتی درود نفل ہے نفل میں معین کرنے کا حق بندے کو ہوتا ہے،راوی کے چہارم یا نصف فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ تمام درود وظیفوں کا تہائی یا آدھا درود پڑھوں باقی میں سارے وظیفے،جواب ملا کر درود جتنا بڑھا اتنا ہی بہتر ہے۔

 



Total Pages: 519

Go To