Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

926 -[8]

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَجْعَلُوا  بُيُوتَكُمْ قُبُورًا وَلَا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا وَصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتكُمْ تبلغني حَيْثُ كُنْتُم» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اپنے گھر قبور نہ بناؤ ۱؎ اور میری قبر کو عید نہ بناؤ۲؎ اور مجھ پر درود بھیجا کرو کہ تمہارا درود مجھے پہنچتا ہے تم جہاں بھی ہو۳؎ (نسائی)

۱؎ یعنی گھروں میں مردے دفن نہ کرو باہر جنگل میں دفن کرو اپنے گھر میں دفن ہونا حضور کی خصوصیت ہے یا اپنے گھروں کو قبرستان کی طرح اﷲ کے ذکر سے خالی مت رکھو بلکہ فرائض مسجد وں میں ادا کرو اور نوافل گھر میں۔

۲؎یعنی جیسے عیدگاہ میں سال میں صرف دوبار جاتے ہیں ایسے میرے مزار پر نہ آؤ بلکہ اکثر حاضری دیا کرو یا جیسے عید کے دن کھیل کود کے لیے میلوں میں جاتے ہیں ایسے تم ہمارے روضہ پر بے ادبی سے نہ آیا کرو بلکہ باادب رہا کرو۔

۳؎ مرقات نے یہاں فرمایا کہ ارواح قدسیہ بدن سے نکل کر ملائکہ کی طرح ہوجاتی ہیں کہ وہ سارے عالم کو کف دست کی طرح دیکھتی ہیں اوران کے لیے کوئی شے حجاب نہیں رہتی۔ یہی مضمون کچھ فرق کے ساتھ اشعۃ اللمعات نے بھی بیان فرمایا لہذا اس حدیث کے معنی یہ ہوئے کہ تم جہاں بھی ہو تمہارے درود کی آواز مجھ تک پہنچتی ہے جب آج بجلی کی طاقت سے وارلیس اور ریڈیو کے ذریعے لاکھوں میل کی آواز سن لی جاتی ہے تو اگر طاقت نبوت سے درود کی آواز سن لی جائے تو کیا بعید ہے۔یعقوب علیہ اسلام نے صدہا میل سے پیراہن یوسف علیہ السلام کی خوشبو پائی،سلیمان علیہ السلام نے تین میل سے چیونٹی کی آواز سنی حالانکہ آج تک کوئی طاقت چیونٹی کی آواز نہ سنا سکی تو ہمارے حضور بھی درود خوانوں کی آواز ضرور سنتے ہیں۔

927 -[9]

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ ذُكِرْتُ عِنْدَهُ فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيَّ وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ دَخَلَ عَلَيْهِ رَمَضَانُ ثُمَّ انْسَلَخَ قَبْلَ أَنْ يُغْفَرَ لَهُ وَرَغِمَ أَنْفُ رَجُلٍ أَدْرَكَ عِنْدَهُ أَبَوَاهُ الْكبر أَو أَحدهمَا فَلم يدْخلَاهُ الْجنَّة» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس کی ناک خاک آلود ہو جس کے پاس میرا ذکر ہو اور مجھ پر درود نہ پڑھے ۱؎ اس کی ناک گرد آلود ہو جس پر رمضان آئے پھر اس کی بخشش سے پہلے گزر جائے اس کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے اس کے ماں بآپ یا ان میں سے ایک بڑھاپا پائے اور اسے جنت میں نہ پہنچائیں ۲؎ (ترمذی)

۱؎ یعنی ایسا مسلمان خوارو ذلیل ہوجائے جو میرا نام سن کر درود نہ پڑھے۔عربی میں اس بددعا سے مراد اظہار ناراضی ہوتاہے حقیقتًا بددعا مراد نہیں ہوتی،اس حدیث کی بناء پر بعض علماء نے فرمایا کہ ایک ہی مجلس میں اگر چند بار حضور کا نام شریف آوے تو ہر بار درود شریف پڑھنا واجب ہے،مگر یہ استدلال کچھ کمزورسا ہے کیونکہ رَغِمَ اَنفٌ ہلکا کلمہ ہے جس سے درود کا استحباب ثابت ہو سکتا ہے نہ کہ وجوب۔مطلب یہ ہے کہ جو بلا محنت دس رحمتیں،دس درجے،دس معافیاں حاصل نہ کرے بڑا بیوقوف ہے۔

۲؎ یعنی وہ مسلماں بھی ذلیل و خوار ہوجائے جو رمضان کا مہینہ پائے اور اسکا احترام اوراس میں عبادات کرکے گناہ نہ بخشوائے، یونہی وہ بھی خوار ہوجس نے جوانی میں ماں بآپ کا بڑھاپا پایا پھر ان کی خدمت کرکے جتنی نہ ہوا۔ بڑھاپے کا ذکر اس لیے فرمایا کہ بڑھاپے میں اولاد کی خدمت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور اس وقت کی دعا اولادکا بیڑا پار کردیتی ہے۔خیال رہے کہ



Total Pages: 519

Go To