Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

924 -[6]

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ لِلَّهِ مَلَائِكَةً سَيَّاحِينَ فِي الْأَرْضِ يُبَلِّغُونِي مِنْ أُمَّتِيَ السَّلَامَ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ والدارمي

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ کے کچھ فرشتے زمین میں سیر و سیاحت کرتے ہیں جو میری امت کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں ۱؎ (نسائی،دارمی)

۱؎ یعنی ان فرشتوں کی یہی ڈیوٹی ہے کہ وہ آستانہ عالیہ تک امت کا سلام پہنچایا کریں۔یہاں چند باتیں قابل خیال ہیں:ایک یہ کہ فرشتے کے درود پہنچانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضور بنفس نفیس ہر ایک کا درود نہ سنتے ہوں،حق یہ ہے کہ سرکار ہر دورو قریب کے درود خواں کا درود سنتے بھی ہیں اور درود خواں کی عزت افزائی کے لیے فرشتے بھی بارگاہِ عالی میں درود پہنچاتے ہیں تاکہ درود کی برکت سے ہم گنہگاروں کا نام آستانہ عالیہ میں فرشتہ کی زبان سے ادا ہو۔ سلیمان علیہ السلام نے تین میل سے چیونٹی کی آواز سنی تو حضور ہم گنہگاروں کی فریاد کیوں نہ سنیں گے،دیکھو رب تعالٰی ہمارے اعمال دیکھتا ہے پھر بھی اسکی بارگاہ میں فرشتے اعمال پیش کرتے ہیں۔دوسرے یہ کہ یہ فرشتے ایسے تیز رفتار ہیں کہ ادھر امتی کے منہ سے درود نکالا ادھر انہوں نے سبز گنبد میں پیش کیا اگر کوئی ایک مجلس میں ہزار بار درود شریف پڑھیں تو یہ فرشتہ ان کے اور مدینہ طیبہ کے ہزار چکر لگائے گا یہ نہ ہوگا کہ دن بھر کے درود تھیلے میں جمع کرکے ڈاک کی طرح شام کو وہاں پہنچائے جیسا کہ اس زمانہ کے بعض جہلاء نے سمجھا۔ تیسرے یہ کہ اﷲ تعالٰی نے فرشتوں کو حضور انور کا خدام آستانہ بنایا ہے،حضور انور کا خدمت گار ان فرشتوں کا سا رتبہ رکھتے ہیں۔

925 -[7]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يُسَلِّمُ عَلَيَّ إِلَّا رَدَّ اللَّهُ عَلَيَّ رُوحِي حَتَّى أَرُدَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِيرِ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مجھ پر کوئی شخص سلام نہیں بھیجتا مگر اﷲ مجھ پر میری روح لوٹاتا ہے حتی کہ میں اس کا جواب دیتا ہوں ۱؎  (ابوداؤد،بیہقی،دعوات کبیر)

۱؎ یہاں روح سے مراد توجہ ہے نہ وہ جان جس سے زندگی قائم ہے حضور تو بحیات دائمی زندہ ہیں۔ اس حدیث کا یہ مطلب نہیں کہ میں ویسے تو بے جان رہتا ہوں کسی کے درود پڑھنے پر زندہ ہو کر جواب دیتا رہتا ہوں ورنہ ہر آن حضور پر لاکھوں درود پڑھے جاتے ہیں تو لازم آئے گا کہ ہر آن لاکھوں بار آپ کی روح نکلتی اور داخل ہوتی رہے۔خیال رہے کہ حضور ایک آن میں بے شمار درود خوانوں کی طرف یکساں توجہ رکھتے ہیں،سب کے سلام کا جواب دیتے ہیں جیسے سورج بیک وقت سارے عالم پر توجہ کرلیتا ہے ایسے آسمان نبوت کے سورج ایک وقت میں سب کا درود سلام سن بھی لیتے ہیں اور اس کا جواب بھی دیتے ہیں لیکن اس میں آپ کو کوئی تکلیف بھی محسوس نہیں ہوتی کیوں نہ ہو کہ مظہر ذات کبریا ہیں،رب تعالٰی بیک وقت سب کی دعائیں سنتا ہے۔

926 -[8]

وَعَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَجْعَلُوا  بُيُوتَكُمْ قُبُورًا وَلَا تَجْعَلُوا قَبْرِي عِيدًا وَصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتكُمْ تبلغني حَيْثُ كُنْتُم» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اپنے گھر قبور نہ بناؤ ۱؎ اور میری قبر کو عید نہ بناؤ۲؎ اور مجھ پر درود بھیجا کرو کہ تمہارا درود مجھے پہنچتا ہے تم جہاں بھی ہو۳؎ (نسائی)

 



Total Pages: 519

Go To