Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۴؎ یعنی جب آیت کریمہ:"یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسْلِیۡمًا" اتری تو ہم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ رب نے ہم کو صلوۃ و سلام کا حکم دیا ہمیں التحیات میں آپ کو سلام کرنا تو آگیا مگر صلوۃ کیسے عرض کریں۔خیال رہے کہ یہاں سلام سے مراد التحیات کا سلام ہے اسی لیے مسلم شریف نے اس حدیث کے لیے یہ باب مقرر کیا "بَابُ کَیْفِ الصَّلوٰۃِ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ تعالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الصَّلوٰۃِ " معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے ارشاد فرمایا تھا کہ ہم پر اور ہمارے اہل بیت پر درود بھیجو تب صحابہ نے یہ سوال کیا۔

 ۵؎ آل اہل سے بنا بمعنی والاجیسے"وَ اِذْ نَجَّیۡنٰکُمۡ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ " یا حضور کی بیویاں ہیں،قرآن کریم نے بیویوں کو اھل بیت فرمایا ہے" فَقَالَ لِاَہۡلِہِ امْکُثُوۡۤا یا حضور کی ساری اولاد ہے یعنی آپ کے چاروں بیٹے اور چاروں بیٹیاں اور تاقیامت فاطمہ زہرا کی نسل یا تمام بنی ہاشم جن پر زکوۃلینا حرام ہے صحیح یہ ہے کہ حضور کی ساری ازواج اور اولاد آپ کی آل ہے۔اس کی تحقیق ہماری کتاب"شانِ حبیب الرحمان"اور"فہرست القرآن"دیکھو۔

۶؎ یہاں تشبیہ شہرت کی بنا پر ہے ورنہ حضور اور حضور کی صلوۃ ابراہیم علیہ السلام اور ان کی صلوۃ سے افضل ہے،چونکہ ابراہیم علیہ السلام نے ہمارے حضور کے لیے دعائیں مانگیں"رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیۡہِمْ رَسُوۡلًا" اس کے شکریئے میں ہم لوگ ہر نماز میں ابراہیم علیہ السلام کی دعائیں دیتے ہیں۔

۷؎ یعنی جیسی عزت اور بزرگی ابراہیم علیہ السلام کو دی ایسی ہمارے حضور کو بھی دے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں ہزار ہا انبیاء ہوتے تو حضور کی اولاد میں لاکھوں اولیاء اﷲ ہوں۔

۸؎ خیال رہے کہ یہ درود ابراہیمی ہے نماز میں صرف یہی پڑھا جائے گا اور درود نہیں مگر نماز کے علاوہ یہ درود غیر مکمل ہوگا کیونکہ اس میں سلام نہیں اور قرآن کریم نے صلوۃ و سلام دونوں کا حکم دیا لہذا خارج نماز وہ درود پڑھو جس میں صلوۃ و سلام دونوں ہوں،نماز میں چونکہ التحیات میں سلام آچکا ہے اس لیے یہاں سلام نہ آنا مضر نہیں ہے۔ بعض لوگ اس حدیث کی بناء پر کہتے ہیں کہ درود ابراہیمی کے سوا اور کوئی درود جائز نہیں مگر یہ غلط ہے کیونکہ تمام صحابہ، محدثین،فقہاء یوں کہتے ہیں"قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ"یہ درود ابراہیمی کے علاوہ ہے۔

920 -[2] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

وَعَن أبي حميد السَّاعِدِيِّ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ نصلي عَلَيْك؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قُولُوا: اللَّهُمَّ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَزْوَاجِهِ وَذُرِّيَّتِهِ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حُمَيْدٌ مجيد "

روایت ہے حصرت ابو حمید ساعدی سے فرماتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں ۱؎ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یوں کہو اے اﷲ حضور محمد اور ان کی بیویوں اور انکی اولاد پر ویسی ہی رحمتیں بھیج جیسی آل ابراہیم پر بھیجیں اور حضور محمد اور ان کی بیویوں اور ان کی اولاد پر یوں ہی برکتیں نازل کر جیسے آل ابراہیم پر اتاریں تو حمد و بزرگی والا ہے ۲؎ (مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To