Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

911 -[6]

وَعَن وَائِلِ بْنِ حَجَرٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ جَلَسَ فَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى وَحَدَّ مِرْفَقَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى وَقَبَضَ ثِنْتَيْنِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً ثُمَّ رَفَعَ أُصْبُعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد والدارمي

روایت ہے حضرت وائل ابن حجر سے وہ رسول اﷲ سے راوی ہیں فرماتے ہیں کہ پھر حضور بیٹھے ۱؎ تو اپنا بایاں پاؤں بچھایا اور اپنا بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھا اور اپنی داہنی کہنی اپنی داہنی ران پر دراز کی ۲؎ دو انگلیاں بند کیں اور حلقہ بنایا ۳؎ پھر اپنی انگلی شریف اٹھائی میں نے آپ کو دیکھا کہ اسے ہلاتے تھے اس سے اشارہ کرتے تھے ۴؎(ابوداؤد، دارمی)

۱؎ یہ حدیث ایک بڑی حدیث کا ٹکڑا ہے جس میں وائل ابن حجر فرماتے ہیں کہ میں ایک بار حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آستانہ شریف پر اس لیے حاضر ہوا کہ میں آپ کی نماز دیکھوں تو میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے،قبلہ کو منہ کیا،تکبیر کہی،کانوں تک ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ آخر میں فرمایا پھر بیٹھے الخ۔

۲؎ یعنی اپنے ہاتھ ادھر ادھر پھیلائے نہیں،بلکہ ران کے مقابل رکھے یہ مطلب نہیں کہ کہنیاں ران پر بچھادیں۔

۳؎ یعنی بیچ والی انگلی کا انگوٹھے سے حلقہ بنایا جیسا کہ ہم لوگوں کا عمل ہے۔

۴؎ یہاں ہلانے سے مرا دانگلی کا اٹھانا اور گرانا ہے کیونکہ اس میں بھی انگلی کو حرکت ہوتی ہے لہذا یہ حدیث اگلی حدیث کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا کہ آپ انگلی نہیں ہلاتے تھے یہ حدیث حنفیوں کے مخالف نہیں۔

912 -[7]

وَعَن عبد الله بن الزبير قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ إِذَا دَعَا وَلَا يُحَرِّكُهَا. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيّ وَزَاد أَبُو دَاوُد وَلَا يُجَاوز بَصَره إِشَارَته

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن زبیر سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب دعا کرتے تو اپنی انگلی سے اشارہ کرتے مگر اسے ہلاتے نہ تھے ۱؎(ابوداؤد،نسائی)ابوداؤد نے یہ زیادہ کیا کہ آپ کی نگاہ اشارے سے آگے نہ بڑھتی۲؎

۱؎ اس دعا سے مراد کلمۂ شہادت ہے کیونکہ درود،رب کی حمد و ثنا، حضور کی نعت،سب در پردہ دعائیں ہیں۔فقیر کا غنی کے دروازے پر آکر کہنا آپ بڑے سخی ہیں،داتا ہیں درپردہ مانگنا ہی ہے۔ نہ ہلانے کا مطلب یہ ہے کہ انگلی اٹھا کر اسے جھماتے نہ تھے۔

۲؎ یعنی بروقت اشارہ آپ اپنی انگلی کو دیکھتے تھے۔خیال رہے کہ نماز کی نشست میں نگاہ گود میں چاہیے لیکن گود میں نگاہ ہوتے ہوئے انگلی بخوبی نظر آجاتی ہے۔راوی کا مطلب یہ ہے کہ آپ اشارہ کے وقت آسمان یا سجدہ گاہ کو نہ دیکھتے تھے۔

913 -[8]

وَعَن أبي هُرَيْرَة قَالَ: إِنَّ رَجُلًا كَانَ يَدْعُو بِأُصْبُعَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحِّدْ أَحِّدْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالْبَيْهَقِيُّ فِي الدَّعَوَاتِ الْكَبِير

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص اپنی دو انگلیوں سے اشارہ کرتا تھا ۱؎حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک سے کرو ایک سے کرو ۲؎(ترمذی،نسائی،بیہقی،دعوات کبیر)

۱؎ یہ اشارہ کرنے والے صاحب حضرت سعد ابن ابی وقاص ہیں جیسا کہ ابوداؤد اور نسائی کی روایا ت میں ہے اور دو انگلیوں سے مراد داہنے یا بائیں ہاتھ کی شہادت والی انگلیاں ہیں نہ کہ ایک ہاتھ کی دو انگلیاں جیسا کہ مرقاۃ اور اشعہ وغیرہ میں ہے۔

۲؎ یعنی داہنے ہاتھ کی کلمہ کی انگلی سے اشارہ کرو بائیں ہاتھ کی کوئی انگلی نہ اٹھاؤ۔

914 -[9]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَجْلِسَ الرَّجُلُ فِي الصَّلَاةِ وَهُوَ مُعْتَمِدٌ عَلَى يَدِهِ. رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: نَهَى أَنْ يَعْتَمِدَ الرَّجُلُ عَلَى يَدَيْهِ إِذا نَهَضَ فِي الصَّلَاة

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع کیا کہ کوئی نماز میں اپنے ہاتھ پر ٹیک لگا کر بیٹھے ۱؎(احمد،ابوداؤد،)اسی کی ایک روایت میں ہے اس سے منع فرمایا کہ دونوں ہاتھوں پر ٹیک لگائے جب نماز میں اٹھے۲؎

 



Total Pages: 519

Go To