Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

909 -[4] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْنَا السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ قبل عباده السَّلَام على جِبْرِيل السَّلَام على مِيكَائِيل السَّلَام على فلَان وَفُلَان فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ قَالَ: «لَا تَقُولُوا السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ فَإِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَقُلِ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ فَإِنَّهُ إِذَا قَالَ ذَلِكَ أَصَابَ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ لْيَتَخَيَّرْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ فيدعوه»

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ۱؎ تو کہتے تھے ۲؎ اﷲ کے بندوں کی طرف سے اﷲ پر سلام ہو۳؎ جبریل علیہ السلام پر سلام ہو میکائیل پر سلام ہو فلاں پر سلام ہو۴؎ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم پھرے تو اپنے چہرے سے ہم پر متوجہ ہوئے ۵؎ اور فرمایا نہ کہو کہ اﷲ پر سلام ہو اﷲ تو خود سلام ہے ۶؎ جب تم میں سے کوئی نماز میں بیٹھے تو کہے ۷؎ کہ اﷲ کے لیے تحیتیں،نمازیں اور طیب کلمے ہیں ۸؎ اے نبی آپ پر سلام ہو اﷲ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں ۹؎ ہم پر اور اﷲ کے نیک بندوں پر سلام ہو ۱۰؎ نمازی جب یہ کہے گا تو زمین و آسمان کے ہر نیک بندے کو پہنچ جائے گا۱۱؎ میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ حضور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۱۲؎پھر جو دعا اسے پسند ہو اختیار کر لے اور اس سے دعا مانگے ۱۳؎(مسلم،بخاری)

۱؎ اگر یہ واقعہ معراج سے پہلے کا ہے تب تو یہ مطلب ہوگا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اجتہاد سے نماز پڑھتے تھے اور صحابہ بھی حضور کے ساتھ اس عبادت میں مشغول ہوتے تھے اور اپنے اجتہاد سے بجائے التحیات یہ پڑھا کرتے تھے، جب حضور معراج سے واپس ہوئے تب آپ نے اس التحیات کی تعلیم دی جو آگے آرہی ہے یعنی لوگو نماز تمہاری معراج ہے تو میں معراج میں رب سے جو گفتگو کرکے آیا تم بھی نماز میں وہ ہی کیا کرو اور اگر معراج کے بعد کا واقعہ ہے تو مطلب یہ ہے کہ اولًا التحیات کی تعلیم نہیں دی گئی تھی صحابہ اپنے اجتہاد سے کچھ کلمے کہہ لیا کرتے تھے،ایک روز نماز سے فارغ ہو کر اس التحیات کی تعلیم دی۔(مرقاۃ)

۲؎  نماز کے دونوں قعدوں میں۔

۳؎ یعنی ہم بندے بارگاہ الٰہی  میں نیاز مندانہ سلام پیش کرتے ہیں،وہ سمجھتے یہ تھے کہ جیسے بادشاہوں کے دربار میں سلام کرنا دربار کا ادب ہے ایسے ہی بارگاہِ الٰہی میں سلام پیش کرنا وہاں کا ادب ہے۔

۴؎ فلاں سے مراد باقی فرشتے ہیں یا خاص انبیائے کرام۔

۵؎  اِنْصَرَفَ کے معنی یا یہ ہیں کہ آپ معراج سے واپس لوٹے تو ہم سب کے سامنے وعظ فرمایا یا یہ مطلب ہے کہ ایک دن نماز سے فارغ ہو کر یہ ارشادہ فرمایا۔(ازمرقات)

۶؎  یعنی سلام ایک قسم کی دعا ہے یہ رب کے لائق نہیں،رب ہر عیب سے پاک،ہر آفت سے دور ہے اور سب کو سلامت رکھنے والا ہے اسی لیے ایک دعا میں فرمایا گیا "اَللّٰھُمَّ اَنْتَ السَّلَامُ" الہی تو سلامت رکھنے والا ہے۔

 



Total Pages: 519

Go To