$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ کہ اونٹ بیٹھتے وقت پہلے پاؤں کے گھٹنے زمین پر لگاتاہے،پھر ہاتھ بچھاتاہے تم ایسا نہ کرو۔

۲؎ یہ حدیث گزشتہ حدیث وائل ابن حجر کے خلاف ہے یا یہ حدیث منسوخ ہے،حدیث وائل ناسخ یا یہ حدیث ضعیف ہے اور وہ حدیث قوی۔غرضکہ یہ حدیث ناقابل عمل ہے اورگزشتہ حدیث پر اکثر آئمہ کا عمل ہے جیسا خود صاحب مشکوٰۃ فرما رہے ہیں۔

۳؎ اسی لیے علماءنے اس پرعمل کیا،بعض لوگوں نے کہا کہ حدیث وائل کی اسناد میں شریک قاضی ہے اور وہ ضعیف ہے مگریہ غلط ہے کیونکہ امام مسلم نے شریک سے روایات لیں ہیں،نیز اس حدیث کی دو اسنادیں اور بھی ہیں جن سے انہیں قوت پہنچتی ہے۔

900 -[14]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَ اهْدِنِي وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالتِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو سجدوں کے درمیان کہتےتھے الٰہی  مجھے بخش دے مجھ پر رحم کر مجھے ہدایت امن اور رزق دے ۱؎ (ابوداؤد، ترمذی)

۱؎ یہ دعا نوافل میں ہمیشہ کہتے تھے فرائض میں کبھی کبھی،فرائض میں اختصار ہے نوافل میں آزادی۔(مرقات)

901 -[15]

وَعَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: «رَبِّ اغْفِرْ لي» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ والدارمي

روایت ہے حضرت حذیفہ سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو سجدوں کے درمیان فرماتے تھے یارب مجھے بخش دے ۱؎ (نسائی،دارمی)

۱؎ یہ حدیث پچھلی حدیث کے خلاف نہیں کیونکہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کبھی دوسجدوں کے درمیان صرف دعائے مغفرت کرتے تھے اورکبھی وہ پوری دعا پڑھتے تھےجو ابھی گزری۔ہرراوی نے جو دیکھا وہ بیان کیا۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

902 -[16]

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَن نَقْرَةِ الْغُرَابِ وَافْتِرَاشِ السَّبُعِ وَأَنْ يُوَطِّنَ الرَّجُلُ الْمَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ كَمَا يُوَطِّنُ الْبَعِيرُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد وَالنَّسَائِيّ والدارمي

روایت ہے حضرت عبدالرحمن ابن شبل سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کوے کی سی ٹھونگ مارنے اور درندے کی طرح ہاتھ بچھانے سے منع فرمایا ۲؎ اور اس سے منع کیا کہ کوئی شخص مسجد میں جگہ مقرر کرلے جیسے اونٹ مقرر کرلیتا ہے۳؎ (ابوداؤد،نسائی،دارمی)

۱؎ آپ کا نام عبدالرحمن ابن شبل ابن عمرو ابن زید ہے،انصاری ہیں،اوسی ہیں،بلکہ انصار کے نقیب رہے ہیں۔حمّص میں قیام رہا،امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں وفات پائی۔

۲؎ کہ ساجد سجدہ ایسی جلدی جلدی نہ کرے جیسےکوّا زمین پر چونچ مارکر فورًا اٹھالیتا ہے اورسجدے میں کہنیاں زمین سے نہ لگائے جیسے کتا،بھیڑیا وغیرہ بیٹھتے وقت لگالیتے ہیں۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html