Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ آپ کا نام عون ابن عبداﷲ ابن عتبہ ابن مسعود ہے،سیدنا ابن مسعود کے بھتیجے کے بیٹے ہیں،تابعی ہیں،حزلی ہیں،بڑے فقیہ اور زاہد تھے،کوفہ میں قیام رہا،امام ابوحنیفہ رحمۃ اﷲ علیہ کی آپ سے ملاقات ہے،کبھی انہیں عون ابن عتبہ بھی کہہ دیاجاتا ہے دادا کی نسبت سے۔عربی میں آدمی کی نسبت باپ،چچا،دادا،پر دادا کی طرف بھی کردیتے ہیں۔

۲؎ یعنی مکمل ہوگیا۔خیال رہے کہ رکوع کے لیے جھکنا نماز میں فرض ہے اور وہاں کچھ ٹھہرنا یعنی اطمینان سے رکوع کرنا واجب اور اس میں تسبیح پڑھنا سنت ہے،لہذا مکمل رکوع وہ ہے جس میں فرض،واجب،سنت سب ادا ہوں۔

۳؎ یعنی کمال کا ادنی درجہ ہے۔معلوم ہوا کہ رکوع سجدے کی تسبیحیں تین سےکم نہ کہے،زیادہ میں اختیارہے پانچ بار یا سات بارکہہ سکتاہے۔نوافل خصوصًاتہجدمیں توجتنا رکوع سجدہ درازکرے اتنا بہتر ہے۔

۴؎ یعنی یہ حدیث منقطع ہے لیکن کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ اعمال میں حدیث منقطع قبول ہے۔

881 -[14]

وَعَنْ حُذَيْفَةَ: أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ» وَفِي سُجُودِهِ: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى» . وَمَا أَتَى عَلَى آيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ وَسَأَلَ وَمَا أَتَى عَلَى آيَةِ عَذَابٍ إِلَّا وَقَفَ وَتَعَوَّذَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالدَّارِمِيُّ وَرَوَى النَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَى قَوْلِهِ: «الْأَعْلَى» . وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

روایت ہےحضرت حذیفہ سے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی آپ رکوع میں"سبحان ربی العظیم" اور سجدہ میں"سبحان ربی الاعلی"کہتے تھے اور رحمت کی آیت پرنہیں پہنچتے مگرٹھہرجاتے اور مانگ لیتے اور عذاب کی آیت پر نہیں پہنچتے مگر ٹھہرتے اور پناہ مانگتے ۱؎(ترمذی،ابو داؤد،دارمی،نسائی)اور ابن ماجہ نے الاعلیٰ تک روایت کی،ترمذی نے فرمایا کہ یہ حسن ہےصحیح ہے۔

۱؎ یہاں نفل نماز مراد ہے،فرائض میں دوران قرأت ٹھہرنا اور مانگنا مستحب کے خلاف ہے اگرچہ جائزہے اسی لیے مرقات نے فرمایا کہ اگر یہ کَانَ یَقُوْلُ دوام کیلیے ہو تب نفل مراد ہیں اگر اتفاقی واقعہ کا ذکر ہے کہ کبھی کبھی ایساکہہ لیتے تو فرض نماز مراد۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

882 -[15]

عَن عَوْف بن مَالك قَالَ: قُمْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَكَعَ مَكَثَ قَدْرَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَيَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: «سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ والملكوت والكبرياء وَالْعَظَمَة» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ

روایت ہے حضرت عوف ابن مالک سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑا ہوا ۲؎ جب آپ نے رکوع کیا تو سورۂ بقرکی بقدرٹھہرے۳؎ اور رکوع میں فرماتے تھے پاک ہے غلبے والا ملکوت بڑائی اورعظمت والا۴؎(نسائی)

۱؎ آپ صحابی ہیں،اشجعی ہیں،غزوہ خیبر اور فتح مکہ میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے بلکہ فتح مکہ کے دن بنی اشجع کاجھنڈا آپ ہی کے ہاتھ میں تھا،شام میں قیام رہا اور وہاں ہی ۷۳ھ؁ میں وفات پائی۔

 



Total Pages: 519

Go To