$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب زیارۃ القبور

قبروں کی زیارت کا باب  ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎  اس جگہ چند مسائل یاد رکھو:(۱)تمام امت کا اس پر اتفاق ہے کہ زیارت قبور سنت ہے کیونکہ اس سے زائرکو اپنی موت یاد آتی ہے جس سے دل میں نرمی پیدا ہوکر آخرت کی طرف توجہ اور دنیا سے بے توجہی حاصل ہوتی ہے۔(۲)زیارت قبور میں زائرکوبھی فائدے ہیں اور میت کوبھی۔زائرکو ثواب آخرت کی یاد،دنیا سے بے رغبتی حاصل ہوتی ہے اور میت کو زائر سے اُنس اور اس کے ایصال ثواب سے نفع میسر ہوتا ہے۔(۳)یہ کہ زائرقبر پر پہنچ کر پہلے صاحب قبرکو سلام کرے،پھرقبر کی طرف منہ اور کعبہ کو پشت کرکے کھڑا ہو اور کچھ سورتیں پڑھ کر اس کا ثواب صاحبِ قبرکو پہنچائے۔(۴)یہ کہ ساری امت اس پرمتفق ہے کہ انبیاءکرام خصوصًا حضرت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر سے مدد لینا جائز ہے،غیر انبیاء کی قبروں کے متعلق بعض ظاہربین علماءنے اختلاف کیا،مگرمحققین فقہا اور تمام صوفیاء فرماتے ہیں کہ اولیاء اور علماء کی قبور سے مدد لینا جائز ہے،قبورِ اولیاء سے تاقیامت دینی و دنیاوی فیوض جاری رہیں گے۔امام شافعی فرماتے ہیں کہ حضرت موسیٰ کاظم کی قبر قبولیت دعا کے لیے مجرب تریاق ہے،امام غزالی فرماتے ہیں کہ جن بزرگوں سے زندگی میں مدد مانگی جاسکتی ہے ان سے بعد وفات بھی مدد مانگی جائے۔ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں نے چارشخصوں کو دیکھا جو زندگی سے زیادہ اپنی قبروں سے دنیا میں تصرف کررہے ہیں،ان میں سے معروف کرخی اور حضرت محی الدین عبدالقادر جیلانی بغدادی ہیں۔سید احمدمرزوق فرماتے ہیں کہ زندے کی مدد سے مردے بزرگ کی مدد زیادہ قوی ہے،یہ تو قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ میت اپنے زائرین کو دیکھتی ہے اور ان کا کلام سنتی ہے،ابن قیم نے کتاب الروح میں لکھا ہے کہ بعد وفات روح کی طاقت بڑھ جاتی ہے۔چنانچہ اکیلی روح ایسے ایسے کام کردیتی ہے جو لاکھوں آدمی نہ کرسکیں۔چنانچہ ایک بارحضرت ابوبکرصدیق کی روح نے صدہا کافروں کو ایک آن میں تہ تیغ کردیا اور روح جنت میں رہتے ہوئے ہوئے مشرق و مغرب کو دیکھ لیتی ہے۔(۵)قبر کے سامنے بلا آڑ نماز پڑھنا حرام،ہاں بزرگوں کی قبروں کے پاس مسجد بنانا یا وہاں نمازیں پڑھنا،برکت کے لیئے دعائیں مانگنا جائز ہے۔(۶)حق یہ ہے کہ قبر یعنی تعویذ قبر کو بوسہ نہ دے،نہ وہاں ناک یا پیشانی خاک پر رگڑے کہ یہ عیسائیوں کا طریقہ ہے،ہاں آستانہ بوسی اورچیزہے۔(۷)جمعہ کے اول دن میں زیارت قبور بہت بہتر ہے۔روایت میں ہے کہ اس دن میت کا علم و ادراک اور توجہ الی الدنیا زیادہ ہوتی ہے۔(۸)وفات کے بعد سات روز تک برابر صدقہ و خیرات کیا جائے،اس پر تمام علماءمتفق ہیں اور اس بارے میں صحیح احادیث بھی وارد ہیں۔(۹)بعض روایتوں میں ہے کہ ہر جمعہ کی شب میت کی روح اپنے گھروں میں آتی ہے اور دیکھتی ہے کہ میرے زندے میرے واسطے کچھ خیرات کرتے ہیں یا نہیں۔(ازلمعات و اشعۃ اللمعات)

1762 -[1]

عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي فَوْقَ ثَلَاثٍ فَأَمْسِكُوا مَا بَدَا لَكُمْ وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ فَاشْرَبُوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا وَلَا تشْربُوا مُسكرا» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت بریدہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا۲؎ اب زیارت کیا کرو۳؎ اور میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کے گوشت سے منع کیا تھا اب جب تک چاہو رکھو۴؎ اور میں نے تمہیں مشکیزوں کے سواء میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا اب تمام برتنوں میں پیا کرو ہاں نشہ کی چیز نہ پینا ۵؎(مسلم)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html