Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1760 -[39]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلْيَسْتَرْجِعْ فَإِنَّهُ مِنَ المصائب» . رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ فِي شعب الْإِيمَان

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کسی کاتسمہ ٹوٹ جائے تو اِنَّالِلّٰہ پڑھے کہ یہ بھی مصیبتوں سے ہے ۱؎

۱؎ یعنی اِنَّالِلّٰہ الخ پڑھنا کسی موت یا بڑی مصیبت پر ہی نہیں بلکہ ہرمصیبت و تکلیف پر پڑھنا چاہیئے خواہ کتنی ہی معمولی ہو۔ حدیث شریف میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چراغ گل ہوجانے پربھی اِنَّالِلّٰہ الخ پڑھی۔

1761 -[40]

وَعَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ: يَا عِيسَى إِنِّي بَاعِثٌ مِنْ بَعْدِكَ أُمَّةً إِذَا أَصَابَهُمْ مَا يُحِبُّونَ حَمِدُوا اللَّهَ وَإِنْ أَصَابَهُمْ مَا يَكْرَهُونَ احْتَسَبُوا وَصَبَرُوا وَلَا حِلْمَ وَلَا عَقْلَ. فَقَالَ: يَا رَبِّ كَيْفَ يَكُونُ هَذَا لَهُمْ وَلَا حِلْمَ وَلَا عَقْلَ؟ قَالَ: أُعْطِيهِمْ مِنْ حِلْمِي وَعِلْمِي".رَوَاهُمَا الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان

روایت ہے حضرت ام الدرداء سے فرماتی ہیں میں نے ابو الدرداءکو فرماتے سناکہ میں نے ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سناکہ اﷲ تعالٰی نے فرمایا اے عیسیٰ میں تمہارے بعد ایسی امت پیداکرنے والا ہوں کہ جنہیں اگر پسندیدہ چیز ملے گی تو اﷲ کی حمدکریں گے اور اگر ناپسند چیز ملے گی تو طلب اجر و صبرکریں گے ۱؎ حالانکہ ان میں علم و حلم نہ ہوگا ۲؎ عرض کیا الٰہی  ان میں یہ خوبی حلم وعقل کے بغیرکیونکر ہوگی فرمایا انہیں اپنے علم و حلم سے دوں گا ۳؎ (بیہقی شعب الایمان)

۱؎ اس امت سے مراد امت محمدمصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔خیال رہے کہ اﷲ تعالٰی نے ہم لوگوں کوپچھلی امتوں کے اچھے برے سارے حالات سنائے مگرپچھلی امتوں کو ہمارے اچھوں کے اچھے حالات سنائے گئے تھے۔لیکن بُروں کے بُرے حالات نہ بتائے گئے یہ اس امت مرحومہ پر خاص کرم خداوندی ہے،دیکھو اگرچہ اس امت میں ناشکرے اور بے صبرے بھی ہیں مگر رب نے عیسیٰ علیہ السلام کو صرف صابرین کے حال سنائے۔

۲؎ یعنی وہ لوگ اُمی ہوں گے کتابوں کے ذریعہ بردباری اورعقل حاصل نہ کرسکے ہوں گے،مگر قدرتی طور پر انہیں صبرو شکر نصیب ہوگا۔مرقاۃ نے یہاں فرمایا کہ اس جگہ کسبی علم و عقل کی نفی ہے نہ کہ وہبی کی۔

۳؎ یعنی انہیں علم لدنی کی طرح علم و عقل کی لدنی عطا فرمائی جائے گی۔الحمدﷲ! اس امت میں اولیاء،علماء تا قیامت اس صفت کے موجود رہیں گے۔علم و حلم کتاب پرموقوف نہیں۔صوفیاءفرماتے ہیں کہ کسبی علم وعقل فانی ہے،وہبی علم وعقل باقی۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اﷲ تعالٰی اپنے مقرب بندوں کو اپنے صفات عطا فرماتاہے۔


 



Total Pages: 519

Go To