Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

878 -[11]

عَنْ أَبِي مَسْعُودِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُجْزِئُ صَلَاةُ الرَّجُلِ حَتَّى يُقِيمَ ظَهْرَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

روایت ہے حضرت ابومسعود انصاری سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نےکہ انسان کی نماز درست نہیں ہوتی حتی کہ رکوع اورسجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی کرے ۲؎ (ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)اور ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

۱؎  آپ کا نام عقبہ ابن عمرو ابن ثعلبہ ہے،دوسری بیعت عقبہ میں شریک تھے،کوفہ میں قیام رہا،    ۴۱ ھ؁  یا    ۴۲ھ؁  میں وفات پائی۔

۲؎ امام شافعی کے ہاں تعدیل ارکان یعنی نمازکو اطمینان سے ادا کرنا فرض ہے جس کے بغیر نماز مطلقًانہیں ہوتی،ہمارے ہاں واجب ہے۔یہ حدیث ان کی دلیل ہے ان کے ہاں اس کے یہ معنی ہیں کہ رکوع سجدے میں اطمینان کے بغیر نماز درست نہیں، ہمارے ہاں اس کے یہ معنی ہیں کہ اس کے بغیر نماز کامل نہیں بہت ناقص ہے،واجب الاعادہ ہے۔اس کی بحث پہلے ہوچکی۔ یہاں اگرچہ رکوع سجدے کا ذکر ہے مگر مراد سارے ارکان ہیں۔

879 -[12]

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ (فسبح باسم رَبك الْعَظِيم)قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ» فَلَمَّا نَزَلَتْ (سَبِّحِ اسْمَ رَبك الْأَعْلَى)قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْن مَاجَه والدارمي

روایت ہےحضرت عقبہ ابن عامرسے فرماتے ہیں کہ جب آیت "فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّکَ الْعَظِیۡمِ" اتری تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اپنے رکوع میں کرلو اور جب آیت "سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی" اتری تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اپنے سجدے میں رکھو ۱؎(ابو داؤد،ابن ماجہ،دارمی)

۱؎ یعنی رکوع میں کہو "سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْم"اور سجدے میں کہو"سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ"۔چونکہ اعلیٰ عظیم سے زیادہ بلیغ ہے اور سجدے میں رکوع سے زیادہ اظہار عجز ہے اس لیے سجدے کےلیئے اعلیٰ مناسب ہوا اور رکوع میں عظیم زیادہ موزوں۔معلوم ہوتا ہے کہ ان آیتوں کے نزول سے پہلےمسلمان رکوع وسجدوں میں کوئی اور ذکر کرتے تھے۔

880 -[13]

وَعَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا رَكَعَ أَحَدُكُمْ فَقَالَ فِي رُكُوعِهِ: سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ تَمَّ رُكُوعُهُ وَذَلِكَ أَدْنَاهُ وَإِذَا سَجَدَ فَقَالَ فِي سُجُودِهِ سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَدْ تَمَّ سُجُودُهُ وَذَلِكَ أَدْنَاهُ ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُد ابْن مَاجَهْ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ لِأَنَّ عونا لم يلق ابْن مَسْعُود

روایت ہےحضرت عون ابن عبداﷲ سے ۱؎ وہ حضرت ابن مسعود سے راوی فرماتےہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو اپنے رکوع میں سبحان ربی العظیم تین بارکہہ لے تو اس کا رکوع پورا ہو گیا ہے۲؎ اور یہ ادنیٰ درجہ ہے اور جب سجدہ کرے تو اپنے سجدہ میں سبحان ربی الاعلی تین بار کہہ لے تو اس کا سجدہ پورا ہوگیا ہے اور یہ ادنی درجہ ہے ۳؎(ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ،)ترمذی کہتے ہیں کہ اس کی اسناد متصل نہیں کیونکہ عون نے ابن مسعود سے ملاقات نہیں کی ۴؎

 



Total Pages: 519

Go To