$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎  اس سے معلوم ہوا کہ تمام تعزیتیں ہی بہتر ہیں مگر بچے کی فوتیدگی پر ماں کو تسلی دینا بہت ثواب ہے۔چادر سے مراد جنت کا نہایت اعلیٰ اور وسیع جوڑا ہے جو اس جنتی کو تعزیت کے عو ض دیا جائے گا جو تمام جوڑوں سے ممتاز ہوگا۔

1739 -[18]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرٍ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: صانعوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا فَقَدْ أَتَاهُمْ مَا يَشْغَلُهُمْ)رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن جعفر سے فرماتے ہیں کہ جب حضرت جعفر کی موت کی خبر آئی ۱؎ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جعفر کے گھر والو ں کے لیئے کھانا پکاؤ ۲؎ کہ ان کے پاس وہ خبر آئی ہے جو کھانے سے باز رکھے گی ۳؎ (ترمذی،ابو داؤد،ابن ماجہ)

۱؎ حضرت جعفر ابوطالب کے فرزند علی مرتضیٰ کے بھائی ہیں،آپ کی شہادت     ۸ھ؁ غزوہ موتہ میں ہوئی،موتہ تبوک کے پاس ایک جگہ ہے۔

۲؎ آپ نے کھانا پکانے کا حکم اپنے اہل بیت کو دیا۔اس کھانےکو جو اہل میت کے لیئے پکایا جائے عربی میں رُفَعَہ کہتے ہیں،اردو میں بھتی،پنجابی،میں کوڑا وٹہ۔یہ کھانا بھیجنا سنت ہے بلکہ چاہیئے کہ خودکھانا پکانے والا میت کے گھر کھانا لے جائے اور خود بھی ان کے ہمراہ ہی کھائے،انہیں ساتھ کھانے پر مجبورکرے۔صرف پہلے دن کھانا بھیجا جائے جس دن فوت ہویا فوت کی خبر آئے بعد میں نہ بھیجے،تین دن کا جو رواج ہے یہ غلط ہے۔

۳؎ یعنی جعفر کے گھر والے آج غم کی وجہ سے کھانا پکا نہ سکیں گے اگر کوئی کھانا نہ لے گیا تو وہ بھوکے رہیں گے۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ کھانا یا وہ لوگ کھائیں جو غم کی وجہ سے پکا نہ سکیں یا باہر کے مہمان جو شرکت دفن کے لیئے آئے ہیں،عام برداری والوں کی دعوت اس وقت ممنوع ہے۔حضرت جریر ابن عبداﷲ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ صحابہ میت کے ہاں دعوت کو نوحہ شمار کرتے تھے۔اسی کو فقہاءمنع فرماتےہیں یعنی تین دن تک تمام محلہ و برادری والوں اورمیت والوں کے لیئے کھانا بھیجنا اور پھرتیسرے دن خود میت کے ہاں برداری کی روٹی ہونا،دھوم دھام سے اسے کھانا یہ دونوں کام سخت منع ہیں خصوصًا جب کہ میت کے یتیم بچےبھی ہوں اور میت کے متروکہ مال سے یہ روٹی کی جائے تو اس کا کھانا اور کھلانا سخت حرام ہے کہ یتیم کا مال کھانا حرام ہے۔غرضکہ اہلِ میت کی رسمی دعوت ممنوع ہے اور یہ کھانا جائز ہے۔اس کی تحقیق ہماری کتاب "اسلامی زندگی" میں ملاحظہ کیجئے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

1740 -[19] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم يَقُول: «من نِيحَ عَلَيْهِ فَإِنَّهُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ يَوْم الْقِيَامَة»

روایت ہے حضرت مغیرہ ابن شعبہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے سنا کہ جس پر نوحہ کیا جائے اسے قیامت کے دن نوحہ کی وجہ سے عذاب ہوگا ۱؎ (مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html