Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1736 -[15]

وَعَن أبي مُوسَى اشعري قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَاتَ وَلَدُ الْعَبْدِ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِمَلَائِكَتِهِ: قَبَضْتُمْ وَلَدَ عَبْدِي؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيَقُولُ: قَبَضْتُمْ ثَمَرَةَ فُؤَادِهِ؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. فَيَقُولُ: مَاذَا قَالَ عَبْدِي؟ فَيَقُولُونَ: حَمِدَكَ وَاسْتَرْجَعَ. فَيَقُولُ اللَّهُ: ابْنُوا لِعَبْدِي بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَسَمُّوهُ بَيت الْحَمد ". رَوَاهُ أَحْمد وَالتِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب کسی بندے کا بچہ مرجاتا ہے تو اﷲ تعالٰی فرشتوں سے فرماتا ہے کیا تم نے میرے بندے کے بچے کو وفات دے دی وہ کہتے ہیں ہاں توکہتا ہے تم نے اس کے دل کا پھل توڑ لیا تو عرض کرتے ہیں ہاں فرماتا ہے میرے بندے نے کیا کہا عرض کرتے ہیں تیری حمد کی اور اِنَّا لِلّٰہ پڑھی،رب فرماتا ہے میرے بندے کے لیے جنت میں گھر بناؤ اور گھر کا نام بیت الحمد رکھو ۱؎(احمد،ترمذی)

۱؎ یہ سوال و جواب ان فرشتوں سے ہے جو میت کی روح بارگاہِ الٰہی  میں لے جاتے ہیں اس سے مقصود ہے انہیں گواہ بنانا ورنہ رب تعالٰی علیم و خبیر ہے۔خیال رہے کہ جنت میں بعض محل رب کی طرف سے پہلے ہی بن چکے ہیں اور بعض انسان کے اعمال پر بنتے ہیں،یہاں اس دوسرے محل کا ذکر ہے جیسے یہاں مکانوں کے نام کاموں سے ہوتے ہیں ویسے ہی وہاں محلات کے نام اعمال سے ہیں۔

1737 -[16]

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «من عَزَّى مُصَابًا فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مَرْفُوعًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَلِيِّ بْنِ عَاصِمٍ الرَّاوِي وَقَالَ: وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ عَنْ مُحَمَّد بن سوقة بِهَذَا الْإِسْنَاد مَوْقُوفا

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کسی مصیبت زدہ کوتسلی دے اس جیسا ثواب ملے گا ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)اور ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے جسے ہم صرف علی ابن عاصم راوی کی حدیث ہی سے مرفوع پہنچانتے ہیں اور بعض محدثین نے یہ حدیث اسی اسناد سے محمد ابن سوقہ سے موقوفًا روایت کی۔

۱؎ کیونکہ بھلائی کی رہبری کرنے والے کوبھی بھلائی کا ثواب ہے۔تعزیت کے ایسے پیارے الفاظ ہونے چاہئیں جس سے اس غمزدہ کی تسلی ہوجائے یہ الفاظ بھی کتب فقہ میں منقول ہیں۔فقیر کا تجربہ ہے کہ اگر اس موقعہ پر غمزدوں کو واقعات کربلا یاد دلائے جائیں اور کہا جائے کہ ہم لوگ تو کھا پی کر مرتے ہیں وہ شاہزادے تو تین دن کے روزہ دار شہید ہوئے تو بہت تسلی ہوتی ہے۔

1738 -[17]

وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ عَزَّى ثَكْلَى كسي بردا فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيب

روایت ہے حضرت ابی برزہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فوت شدہ بچے کی ماں کو تسلی دے اسے جنت میں چادر اوڑھائی جائے گی ۱؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

 



Total Pages: 519

Go To