$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

الفصل الثانی

دوسری فصل

1732 -[11]

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّائِحَةَ وَالْمُسْتَمِعَةَ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوسعید خدری سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے والی اور سننے والی پر لعنت فرمائی ۱؎ (ابوداؤد)

۱؎ سننے والی سے وہ عورت مراد ہے جو نوحہ سے راضی ہوکر کان لگاکر سنے جیسے غیبت کرنا اور خوشی سے سننا دونوں گناہ ہیں، ایسے ہی نوحہ کرنا اور سننا سب گناہ۔خیال رہے کہ اپنے گناہوں پر نوحہ کرنا عین عبادت ہے۔حضرت نوح علیہ السلام خوف خدا میں اتنا روتے تھے کہ آپ کا لقب ہی نوح ہوگیا،ورنہ آپ کا نام یَشْکُرْہے۔اس نوحہ کی حقیقت یہ ہے کہ انسان بالکل بے گناہ ہو پھر اپنے کو گناہ گار کہے اور روئے یہ جھوٹ بھی عبادت ہے۔رب تعالٰی حضرت صدیق اکبرکو کہیں اَتْقیٰ فرماتا ہے اور کہیں اُولُو الْفَضْلِ مگر وہ خود سرکار یہ کہہ کر روتے ہیں الٰہی  میرا کیا بنے گا میرے پاس کوئی نیکی نہیں۔

1733 -[12]

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَجَبٌ لِلْمُؤْمِنِ: إِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ حمد الله وَشَكَرَ وَإِنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ حَمِدَ اللَّهَ وَصَبَرَ فالمؤمن يُؤْجَرُ فِي كُلِّ أَمْرِهِ حَتَّى فِي اللُّقْمَةِ يَرْفَعُهَا إِلَى فِي امْرَأَتِهِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان

روایت ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے عجیب ہے مؤمن کے لیے اگر اسے بھلائی پہنچے تو اﷲ کی حمد اور شکر کرے اور اگر مصیبت پہنچے تو اﷲ کی حمد اور صبر کرے ۱؎ مؤمن کو ہر چیز میں ثواب ملتا ہے حتی کہ لقمہ میں بھی جو اپنی بیوی کے منہ تک پہنچاتا ہے ۲؎(بیہقی شعب الایمان)۳؎

۱؎ اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ ایمان نصف اس کا صبر ہے اور نصف دیگر شکر،رب فرماتاہے:"لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍ"۔شکر کو صبر پر اس لیئے مقدم کیا کہ خدا کی طرف سے نعمتیں زیادہ ہیں تکلیفیں کم لہذا شکر کے موقع بہت ہیں ورنہ صبرشکر سے افضل ہے۔علماء فرماتے ہیں کہ صبرتین قسم کا ہے:نیکی پر صبر،گناہ سے صبر اور مصیبت میں صبر۔

۲؎ یعنی اسے کماکرکھلاتا ہے جب کہ ادائے سنت کی نیت سے ہو۔اس سےمعلوم ہوا کہ نیت خیر سے مباح کام ثواب ہوجاتے ہیں اور عادات عبادات بن جاتی ہیں،عالِم کا سونابھی عبادت ہے۔

۳؎ یہاں مرقات نے فرمایا اس کی اسناد میں عمرو ابن سعد ہے۔یہ ثقہ کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ قتل حسین میں شمر کا ساتھی تھا لہذا حدیث سخت ضعیف ہے مگر چونکہ فضائل میں ہے اس لیئے قابل رد نہیں اسی لیے دیکھا گیا ہے کہ مسلم بخاری کی بعض اسنادوں میں کہیں کہیں رافضی اور خارجی بھی آگئے ہیں۔(مرقاۃ)

1734 -[13]

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُؤْمِنٍ إِلَّا وَله بَابَانِ: بَاب يصعد مِنْهُ علمه وَبَابٌ يَنْزِلُ مِنْهُ رِزْقُهُ. فَإِذَا مَاتَ بَكَيَا عَلَيْهِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: (فَمَا بَكَتْ عَلَيْهِمُ السَّمَاء وَالْأَرْض)رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مؤمن کے دو دروازے ہیں ایک دروازہ وہ جس سے اس کے عمل چڑھتے ہیں دوسرا وہ جس سے اس کی روزی اترتی ہے،جب مؤمن مرجاتا ہے تو یہ دونوں اس پر روتے ہیں یہ ہی رب کا فرمان ہے کہ کفار پر آسمان و زمین نہیں روتے ہوتے ۱؎ (ترمذی)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html