Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1729 -[8] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «لَا يَمُوت لمُسلم ثَلَاث مِنَ الْوَلَدِ فَيَلِجُ النَّارَ إِلَّا تَحِلَّةَ الْقَسَمِ»

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی مسلمان نہیں جس کے تین بچے مرجائیں پھر وہ آگ میں جائے مگر قسم پوری کرنے کو ۱؎ (مسلم،بخاری)

۱؎ قسم سے مراد رب کا وہ فرمان ہے:"وَ اِنۡ مِّنۡکُمْ اِلَّا وَارِدُہَا"ہر ایک کو دوزخ میں وارد ہونا ہے کیونکہ محشر سے جاتے ہوئے جنت کے راستہ میں دوزخ پڑتی ہے یعنی ایسا صابر دوزخ سے گزرے گا تو ضرور مگر صرف اس قسم کو پورا کرنے نہ کہ عذاب پانے کے لیے۔

1730 -[9]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنِسْوَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ: " لَا يَمُوتُ لِإِحْدَاكُنَّ ثَلَاثَةٌ من الْوَلَد فتحتسبه إِلَّا دخلت الْجنَّة. فَقَالَ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: أَوِ اثْنَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:أَوْ اثْنَانِ".رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ لَهما: «ثَلَاثَة لم يبلغُوا الْحِنْث»

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری عورتوں سے فرمایا کہ جس ماں کے تین بچے مرجائیں وہ صبرکرے وہ جنت میں ضرور جائے گی ۱؎ ان سے ایک بی بی بولی یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم یا دو فرمایا دو ۲؎ (مسلم)اور مسلم،بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ تین وہ بچے جو بلوغ کو نہ پہنچے ہوں۳؎

۱؎ ایسےموقعوں پر اکثر عورتوں سے خطاب ہوتا ہے کیونکہ ماں کو بچے سے محبت زیادہ ہوتی ہے اور صبرکم،نیز ان میں رونے پیٹنے اور نوحہ کی عادت زیادہ ہے۔

۲؎ اس سوال و جواب سے معلوم ہورہا ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی رحمتوں کے بااختیارتقسیم فرمانے والے ہیں۔اگر آپ فرمادیتے کہ نہیں تین پر ہی تو تین ہی پر یہ اجر ہواکرتا جیسے باب الحج میں حدیث آئے گی کہ اگر ہم فرمادیتے کہ ہر سال حج فرض ہے تو ہر سال ہی فرض ہوجاتا۔

۳؎ حنث کے معنی ہیں گناہ اسی لیے قسم توڑنے کو حنث کہتے ہیں کہ وہ گناہ ہے،چونکہ بالغ ہونے پر انسان گناہ کے قابل ہوتاہے اس لیئے بلوغ کو حنث کہا جاتاہے۔خیال رہے کہ جوان اولاد کے مرنے اور صبرکرنے پربھی بڑا اجر ہے مگر چھوٹے بچوں پربھی صبرکرنے کا بڑا اجر ہے اور ان کی شفاعت بھی کیونکہ ان کا زخم سخت ہے خصوصًا شیرخوار بچے کی ماں کو جب اس کے پستان میں دودھ زورکرتا ہے اور پینے والا بچہ نہیں ہوتا۔

1731 -[10]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ اللَّهُ: مَا لِعَبْدِي الْمُؤْمِنِ عِنْدِي جَزَاءٌ إِذَا قَبَضْتُ صَفِيَّهُ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا ثُمَّ احتسبه إِلَّا الْجنَّة ". رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے انہی سے فرماتے فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ تعالٰی فرماتاہے کہ جب میں بندہ مؤمن کی دنیا کی پیاری چیز لے لوں پھر وہ صبرکرے تو اس کی جزاء جنت کے سوا کچھ نہیں ۱؎ (بخاری)

۱؎ یہ حدیث ہر پیاری چیزکو عام ہے ماں باپ،بیوی اولاد حتی کہ فوت شدہ تندرستی وغیرہ جس پربھی صبرکرے گا ان شاءاﷲ جنت پائے گا لہذا یہ حدیث بڑی بشارت کی ہے۔

 



Total Pages: 519

Go To