$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

877 -[10]

وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي وَرَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرَّكْعَةِ قَالَ: «سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» . فَقَالَ رَجُلٌ وَرَاءَهُ: رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا؟» قَالَ: أَنَا. قَالَ: «رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبهَا أول» . رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہےحضرت رفاعہ ابن رافع سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھےنماز پڑھ رہے تھے ۲؎ جب آپ نے اپنا سر رکوع سے اٹھایا تو فرمایا اﷲ اپنے حمد کرنے والے کی سنتا ہے تو آپ کے پیچھے ایک شخص نے کہا اے ہمارے رب تیرے ہی لیے حمدہے بہت طیب برکت والی حمد جب فارغ ہوئے تو فرمایا کہ ابھی کس نے یہ کلمات کہے ۳؎ وہ بولا میں نے آپ نے فرمایا کہ میں نے چند اورتیس فرشتوں کو دیکھا کہ ان میں جلدی کررہے کہ پہلے کون لکھے۴؎(بخاری)

۱؎ آپ انصاری بدری صحابی ہیں،آپ کے والد نقیب الانصار تھے،آپ کی وفات    ۴۱ھ؁ میں ہوئی۔

۲؎ غالبًا نماز پنجگانہ میں سے کوئی نمازتھی کیونکہ جماعت کا اہتمام انہی نمازوں میں ہوتا تھا۔ نماز تہجد کی اگرچہ کبھی جماعت ہوئی ہے مگر بغیر اہتمام کے۔

۳؎  معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بحالت نماز جیسےصحابہ کرام اور فرشتوں کے حالات دیکھ لیتے تھے ایسے ہی ان کے کلمات بھی سن لیتےتھے اور یہ سننا اور دیکھنانماز کے خضوع وخشوع میں خلل نہ ڈالتا تھاکیونکہ وہ قلب قدرت نے بنایا ہی ایسا تھا کہ بیک وقت خالق کی بھی سنیں مخلوق کی بھی،خالق سے لیتا رہے مخلوق کو دیتا رہے ایک کی توجہ دوسرے سے غافل نہ کردے آپ کا تو یہ حال تھا   ؎

ادھر اﷲ سے واصل ادھر مخلوق میں شاغل              خواص اس برزخ کبریٰ میں ہے حرف مشدد کا

ممکن ہے کہ وہ صاحب آخر صف میں ہوں مگرحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آہستہ آوازبھی سن لی،حضرت سلیمان علیہ السلام نےتین میل سے چیونٹی کی آوازسنی تھی۔

۴؎ یعنی ہر فرشتہ یہ چاہتا تھا کہ پہلے میں لکھ کر بارگاہ الٰہی  میں پیش کردوں تاکہ مجھے قرب الٰہی  زیادہ نصیب ہو۔خیال رہے کہ یہ فرشتے نامۂ اعمال لکھنے والوں کے علاوہ ہیں ورنہ کاتب اعمال صرف دو ہی ہیں،ایک نیکی لکھنے والا اور ایک گناہ،ان کی یہ جلدی ان کلمات کی کرامت کے اظہار کےلیےہے ورنہ فرشتوں کو سب کچھ لکھنے میں ایک سیکنڈبھی نہیں لگتا۔اس حدیث سےمعلوم ہورہا ہے کہ فرشتوں کو بعض نیکیاں لے جانے پرخصوصی انعام ملتے ہیں۔یہ بھی معلوم ہوا کہ فرائض کے قومے میں یہ کلمات کہنا جائزہیں۔یاد رہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ پوچھنا کہ کس نے یہ کہا اپنے علم کے لیےنہیں بلکہ لوگوں پر ظاہرکرنے کے لیےہے۔

الفصل الثانی

دوسری فصل

878 -[11]

عَنْ أَبِي مَسْعُودِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُجْزِئُ صَلَاةُ الرَّجُلِ حَتَّى يُقِيمَ ظَهْرَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ».رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ

روایت ہے حضرت ابومسعود انصاری سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نےکہ انسان کی نماز درست نہیں ہوتی حتی کہ رکوع اورسجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی کرے ۲؎ (ابوداؤد،ترمذی،نسائی،ابن ماجہ،دارمی)اور ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html