$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب البکاء علی المیت

میت پر رونے کاباب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ میت پر آواز سے یا صرف آنسوؤں سے رونا جائز ہے بلکہ مردے کے بعض فضائل بیان کرنا بھی درست ہے جیسے فاطمہ زہرہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر روتے ہوئے فرمایا تھا ابا جان آپ جنت میں چلے گئے اب وحی آنا بند ہوگئی وغیرہ،ہاں اس پر سر یا سینہ کوٹنا،منہ پرتھپڑ لگانا،بال نوچنا،اس کے جھوٹے اوصاف بیان کرنا،ہائے میرے پہاڑ،ہائے کالی گھوڑی کے سوار یہ سب حرام ہے کہ یہ نوحہ میں داخل ہے۔

1722 -[1] (مُتَّفق عَلَيْهِ)

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَيْفٍ الْقَيْنِ وَكَانَ ظِئْرًا لِإِبْرَاهِيمَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبْرَاهِيمَ فَقَبَّلَهُ وَشَمَّهُ ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَيْهِ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِبْرَاهِيمُ يَجُودُ بِنَفْسِهِ فَجَعَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذْرِفَانِ. فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: " يَا ابْنَ عَوْفٍ إِنَّهَا رَحْمَةٌ ثُمَّ أَتْبَعَهَا بِأُخْرَى فَقَالَ: إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يُرْضِي رَبَّنَا وَإِنَّا بِفِرَاقِك يَا إِبْرَاهِيم لَمَحْزُونُونَ "

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابوسیف لوہار کے ہاں گئے ۱؎ جو حضرت ابراہیم کا رضاعی والد تھا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم کو لیا انہیں چوما اور سونگھا۲؎ کچھ عرصہ بعد ہم پھر وہاں گئے جب کہ حضرت ابراہیم جان دے رہے تھے تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں بہنے لگیں حضرت عبدالرحمان بن عوف نے خدمت عالیہ میں عرض کیا یارسول اﷲ آپ بھی ۳؎ تو فرمایا اے ابن عوف یہ تو رحمت ہے پھر دوبارہ آنسو بہائے فرمایا آنکھیں بہتی ہیں،دل غمگین ہے مگر ہم وہ ہی کریں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو اے ابراہیم تمہاری جدائی سے ہم غمگین ہیں۴؎(مسلم،بخاری)

۱؎ آپ کا نام براء اور آپ کی بیوی ام سیف کا نام خولہ بنت منذر،انصار سے ہے جو حضرت ابراہیم کی دودھ کی والدہ ہیں،انہی کے ہاں حضرت ابراہیم رکھے گئے تھے،حضور انہیں کبھی کبھی دیکھنے جایا کرتے تھے،حضرت ابراہیم نے سولہ مہینہ کی عمر میں وفات پائی۔

۲؎ معلوم ہو اکہ بچہ کو گود میں لینا،اسے چومنا سونگھنا سنت ہے رحمت کی علامت ہے۔

۳؎ یعنی آپ بھی بچوں کے فوت ہونے پر روتےہیں۔وہ سمجھے یہ رونابے صبری کا ہوتا ہے جس سے انبیاء کرام پاک ہیں تب یہ سوال کیا۔

۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ میت پر صرف آنسوں سے رونابھی جائز ہے اور صبرشکر کے الفاظ کہنا بھی اور میت کو مخاطب کرکے کلام کرنا بھی جائز کہ بچہ زندگی میں اگرچہ کچھ نہ سمجھتا ہو مگر بعد وفات سمجھنے بلکہ بولنے لگتا ہے۔ابھی آئے گا کہ کچا بچہ قیامت میں ماں باپ کی شفاعت بھی کرے گا اور ان سے کلام بھی۔

1723 -[2] (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: أَرْسَلَتِ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ: إِنَّ ابْنًا لِي قُبِضَ فَأْتِنَا. فَأَرْسَلَ يُقْرِئُ السَّلَامَ وَيَقُولُ:«إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ» . فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيَأْتِيَنَّهَا فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ وَمُعَاذُ بْنُ جبل وَأبي بن كَعْب وَزيد ابْن ثَابِتٍ وَرِجَالٌ فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَتَقَعْقَعُ فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ. فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا؟ فَقَالَ: «هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ. فَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاء»

روایت ہے حضرت اسامہ ابن زید سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دختر زینب نے حضور کو پیغام بھیجا کہ میرا بچہ فوت ہوگیاتشریف لایئے ۱؎ حضور نے سلام وپیغام بھیجا کہ اﷲ ہی کا ہے جو دے یا لے اس کے ہاں ہر چیز مدت مقرر پر ہے،صبروطلب اجر لیں۲؎ انہوں نے پھر پیغام بھیجا آپ کو قسم دیتی تھیں کہ ضرور آئیں۳؎ آپ اٹھے آپ کے ساتھ سعد ابن عبادہ اور معاذ ابن جبل،ابی ابن کعب،زید ابن ثابت کچھ اور لوگ تھے بچہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا جو دم توڑ رہا تھا تب حضور کی آنکھیں بہنے لگیں حضرت سعد نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم یہ کیا ہے فرمایا یہ رحمت ہے جو اﷲ نے اپنے بندوں کے دل میں ڈالی ہے اﷲ اپنے بندوں میں سے رحم والوں پر ہی رحم کرتا ہے ۴؎ (مسلم،بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html