Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ یعنی ان کی میت قبر کی پائنتی رکھی اور ادھر سے قبر میں اتارا یا ضرورۃً تھا یا بیان جواز کے لیے،ورنہ بہتر یہ ہے کہ قبر سے قبلہ رخ رکھ کر میت کو اتارا جائے۔اس کی تحقیق پہلے پوری کی جاچکی ہے۔

1720 -[28]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ ثُمَّ أَتَى الْقَبْر فَحَثَا عَلَيْهِ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ ثَلَاثًا. رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازے پرنماز پڑھی پھر قبر پر آئے تو ان پر سر کی طرف سے تین لپ مٹی ڈالی ۱؎(ابن ماجہ)

۱؎ چنانچہ سنت یہ ہے کہ دفن کے وقت قبر پر ہرمسلمان تین لپ مٹی ڈالے،اس کا ذکر بھی پہلے گزر گیا۔

1721 -[29]

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَالَ: رَآنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ: لَا تؤذ صَاحب هَذَا الْقَبْر أَولا تؤذه. رَوَاهُ أَحْمد

روایت ہے حضرت عمر و ابن حزم سے فرماتے ہیں کہ مجھ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک قبر پر تکیہ لگائے دیکھا تو فرمایا اس قبر والے کو نہ ستاؤ یا اسے مت ستاؤ ۱؎ (احمد)

۱؎ غالبًا آپ قبر سےتکیہ لگائے بیٹھے تھے جس سے سرکار نے منع فرمایا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ مسلمان کی قبربھی لائق تعظیم ہے،جب اس سےتکیہ لگانا جائزنہیں تو وہاں اور بدتمیزی کیسے جائز ہوگی،بلکہ بزرگوں کی قبر پر ہاتھ باندھ کر سرجھکا کر کھڑے ہونا چاہیئے،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ پرنماز کی طرح ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو۔(کتب فقہ)دوسرے یہ کہ میت کو باہر کی خبر ہوتی ہے،ان کی بے ادبیوں سے ناراض اور احترام سے خوش ہوتاہے۔


 



Total Pages: 519

Go To