Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

دلائل دیئے ہیں اور آیت"لَّیۡسَ لِلْاِنۡسٰنِ اِلَّا مَا سَعٰی"کو منسوخ فرمایا اور محکم ہونے کی صورت میں اس کی بہت توجیہیں فرمائیں۔خدا شوق دے تو اس جگہ مرقاۃ اور کتاب"جاءالحق"حصہ اول اور "تفسیرنعیمی"پارہ سوم کا ضرور مطالعہ کرو۔

1718 -[26]

وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ عبد الرَّحْمَن بن أبي بكر بالحبشي (مَوضِع قريب من مَكَّة)وَهُوَ مَوْضِعٌ فَحُمِلَ إِلَى مَكَّةَ فَدُفِنَ بِهَا فَلَمَّا قَدِمَتْ عَائِشَةُ أَتَتْ قَبْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَتْ:وَكُنَّا كَنَدْمَانَيْ جَذِيمَةَ حِقْبَةً مِنَ الدَّهْرِ حَتَّى قِيلَ لَنْ يَتَصَدَّعَا فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا كَأَنِّي وَمَالِكًا لِطُولِ اجْتِمَاعٍ لَمْ نَبِتْ لَيْلَةً مَعَا ثُمَّ قَالَتْ: وَاللَّهِ لَوْ حَضَرْتُكَ مَا دُفِنْتَ إِلَّا حَيْثُ مُتَّ وَلَوْ شهدتك مَا زرتك رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت ابن ابی ملیکہ سے فرماتے ہیں جب عبد الرحمان ابن ابی بکر نے مقام جشی میں وفات پائی تو وہ مکہ لاکر دفن کیے گئے ۱؎ جب حضرت عائشہ آئیں تو عبدالرحمان ابن ابی بکر کی قبر پر تشریف لے گئیں اور یہ شعر پڑھے ۲؎ ہم تم دراز زمانہ تک جذیمہ کے وزیروں کی طرح رہےحتی کہ کہا گیا کہ یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے مگر جب بچھڑے تو میں اور مالک اتنا دراز ساتھ رہنے کے باوجودگویا ایک رات بھی ساتھ نہ رہے ۳؎ پھر بولیں رب کی قسم اگر میں موجود ہوتی تو تم وہیں دفن کیے جاتے جہاں تم فوت ہوئے اور اگر میں اس وقت ہوتی تو اب تمہاری زیارت نہ کرتی۴؎(ترمذی)

۱؎ ابن ابی ملیکہ تابعی ہیں،سیدنا عبداﷲ ابن زبیر کے زمانہ میں قاضیٔ مکہ تھے اور حضرت عبدالرحمن عائشہ صدیقہ کے بھائی ہیں جن کا انتقال مقام جشی میں ہوا جو مکہ مکرمہ سے ایک منزل دور ہے مگر برکت کے لیے مکہ معظمہ لاکر دفن کئے گئے۔خیال رہے کہ عبدالرحمان حضرت عائشہ کے حقیقی بھائی ہیں جن کی ماں اُم رومان ہیں۔

۲؎ یعنی جب آپ حج کو مکہ معظمہ آئیں تو راستہ میں ان کی قبر پرنظر پڑی اتر گئیں اور زیارت قبر کی اورتمیم ابن نویرہ کے مرثیہ کے یہ دو شعر پڑھے جو اس نے اپنے بھائی مالک ابن نویرہ کے قتل ہونے کے بعد لکھے۔مالک عہدصدیقی میں حضرت خالد کے ہاتھوں مارا گیا کیونکہ اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی تھی۔

۳؎ جزیمہ عراق کابادشاہ تھا اس کے دو وزیروں کی آپس کی محبت اور ہمیشہ ہمراہی عرب میں کہاوت بن چکی تھی،ان وزیروں کے نام مالک وعقیل تھے جو چالیس سال تک جزیمہ کے ساتھ رہے،انہیں نعمان نے قتل کیاجن کے قتل کا عجیب قصہ مقامات حریری کی شرح میں مذکور ہے۔حقبہ دراز مدت کو کہتے ہیں جس کی حد نہ ہو،رب تعالٰی فرماتا ہے:"لّٰبِثِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَحْقَابًا

۴؎ یعنی اگر میں تمہاری وفات کے وقت تمہارے ساتھ ہوتی تو نہ تمہاری میت کو یہاں آنے دیتی کیونکہ بلا وجہ میت کو منتقل کرنا ٹھیک نہیں۔اس کی بحث پہلے ہوچکی اور نہ اب میں تمہاری قبر کی زیارت کے لیئے اترتی کیونکہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو زیارت قبور سے منع فرمایا۔ہم ابھی عرض کرچکے کہ آپ زیارت قبر کے لئے گئی نہ تھیں بلکہ قبر راستہ میں پڑی تھی تو اتر پڑی تھیں۔زیارت قبر کی پوری بحث ان شاءاﷲ زیارت قبور کے باب میں آئے گی۔

1719 -[27]

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: سَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدًا وَرَشَّ عَلَى قَبره مَاء. رَوَاهُ ابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابو رافع سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نےحضرت سعدکو کھینچا اور ان کی قبر پر پانی چھڑکا ۱؎(ابن ماجہ)

 



Total Pages: 519

Go To