Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

الفصل الثالث

تیسری فصل

1715 -[23]

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: شَهِدْنَا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُدْفَنُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ عَلَى الْقَبْرِ فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْمَعَانِ فَقَالَ: " هَلْ فِيكُمْ مَنْ أَحَدٍ لَمْ يُقَارِفِ اللَّيْلَةَ؟ . فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: أَنَا. قَالَ: فَانْزِلْ فِي قَبْرِهَا فَنَزَلَ فِي قبرها ". رَوَاهُ البُخَارِيّ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی دختر کے جنازے پر حاضر ہوئے جب وہ دفن کی جارہی تھیں ۱؎ اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم قبر پر بیٹھے تھے میں نے آپ کی آنکھوں کو دیکھا کہ آنسو بہا رہی تھیں حضور نے فرمایا کیا تم میں کوئی ایسا بھی ہے جس نے آج رات صحبت نہ کی ہو۲؎ ابوطلحہ بولے میں فرمایا تم قبر میں اترو وہ آپ کی قبر میں اترے۳؎(بخاری)

۱؎ یہ جنازہ حضرت ام کلثوم بنت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا جو حضرت عثمان کی زوجہ تھیں۔

۲؎ یقارف مقارفۃٌ سے بنا جس کے معنے ہیں کرنا یا قریب جانا،رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَ مَنۡ یَّقْتَرِفْ حَسَنَۃً"۔جماع کو قراف کہتے ہیں۔بعض شارحین نے اس کے یہ معنی کئے ہیں کہ آج رات گناہ نہ کیا ہو مگر یہ غلط ہے،کیا سارے صحابہ راتیں گناہوں میں گزارتے تھے،یہاں بمعنی جماع ہے۔واقعہ یہ ہوا تھا کہ امّ کلثوم بہت عرصہ سے بیمارتھیں حضرت عثمان کو یہ خبر نہ تھی کہ آج ان کی آخری رات ہے اتفاقًا اس رات اپنی لونڈی سے صحبت کر بیٹھے یہ بات حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو ناگوارگزری اشارۃً اس طرح تنبیہ فرمائی،گویا یہ محبوبانہ شکوہ کیا کہ میری بیٹی اتنی بیمار اور تم نے صبر نہ کیا۔اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہرشخص کے ہرخفیہ اور ظاہری عمل سے خبردار ہیں،دیکھو عثمان غنی کا پردہ کا کام حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر روشن تھا۔

۳؎ یا تو قبرکو اندر سے صاف کرنے کے لئے تب تو حدیث بالکل ظاہر ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں یا میت کو قبر میں رکھنے کے لئے۔تب اس سے یہ مسئلہ معلوم ہوگا کہ بوقت ضرورت اجنبی نیک شخص میت عورت کو کفن کے اوپر سے ہاتھ لگا سکتا ہے۔شائد حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی عذر ہوگا جس کی وجہ سے آپ خود قبر میں نہ اترے ورنہ عورت میت کو بیٹا،والد،بھائی۔خاوند قبر میں اتارے،عثمان غنی سے یہ خدمت نہ لینا اظہار عتاب کے لیئے تھایا انہیں بھی کوئی عذر ہوگا۔(لمعات)

1716 -[24]

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ لِابْنِهِ وَهُوَ فِي سِيَاقِ الْمَوْتِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَلَا تَصْحَبْنِي نَائِحَةٌ وَلَا نَارٌ فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَشُنُّوا عَلَيَّ التُّرَابَ شَنًّا ثُمَّ أَقِيمُوا حَوْلَ قَبْرِي قَدْرَ مَا يُنْحَرُ جَزُورٌ وَيُقَسَّمُ لَحْمُهَا حَتَّى أَسْتَأْنِسَ بِكُمْ وَأَعْلَمَ مَاذَا أُرَاجِعُ بِهِ رُسُلَ رَبِّي. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت عمرو ابن عاص سے کہ انہوں نے اپنے فرزند سے بحالت موت فرمایا جب میں مرجاؤں تو میرے ساتھ نہ کوئی نوحہ والی جائے نہ آگ ۱؎ جب تم مجھے دفن کرو تو مجھ پرمٹی ڈالنا پھر میری قبر کے اردگرد اس قدر کھڑے رہنا جتنی دیر اونٹ ذبح کرکے اس کا گوشت بانٹ دیا جائے تاکہ تم سے مجھے اُنس ہو اور جان لو کہ میں رب کے فرشتوں کو کیا جواب دوں ۲؎(مسلم)

 



Total Pages: 519

Go To