Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1708 -[16]

وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ مُرْسَلًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حثا عَلَى الْمَيِّتِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا وَأَنَّهُ رَشَّ عَلَى قَبْرِ ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ وَوَضَعَ عَلَيْهِ حَصْبَاءَ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَرَوَى الشَّافِعِيُّ من قَوْله: «رش»

روایت ہے حضرت جعفر ابن محمد سے وہ اپنے بآپ سے مرسلًا راوی ۱؎ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میت پر اپنے دونوں ہاتھوں سے تین لپ ڈالے۲؎ اور اپنے فرزند ابراہیم کی قبر پر چھڑکاؤ کیا اور اس پرکنکر بچھائے۳؎(شرح سنہ)اور شافعی نے رشّ سے۔

۱؎ امام جعفر صادق کے والد کا نام محمد باقر ہے،چونکہ انہوں نے حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا نہیں اور یہاں صحابہ کا نام لیا نہیں اس لیئے یہ حدیث مرسل ہے۔غالبًا وہ صحابی حضرت جابر ہوں گےکیونکہ امام باقر اکثر ان سے روایتیں لیتے ہیں۔

۲؎ مٹی کے۔امام احمد کی روایت میں ہے کہ آپ پہلے لپ پر پڑھتے"مِنْہَاخَلَقْنٰکُمْ"اور دوسرے پر پڑھتے"وَ فِیۡہَا نُعِیۡدُکُمْ"اور تیسرے پر پڑھتے"وَ مِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً اُخْرٰی"۔چنانچہ میت کو تین لپ مٹی دینا بھی سنت ہے اور یہ پڑھنا بھی۔

۳؎ علماء فرماتے ہیں کہ بعد دفن قبر پر ٹھنڈا اور پاک پانی چھڑکے نیک فال کے لیئے کہ اﷲ میت کو پاک اور قبر کو ٹھنڈا کرے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ قبر کو بالکل کچا رکھنا ضروری نہیں،اس پر بجری کنکریٹ ڈال سکتے ہیں،ہاں عام قبروں کو چونا گچ سے پختہ نہ کیا جائے۔

1709 -[17]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن تجصص الْقُبُور وَأَن يكْتب لعيها وَأَن تُوطأ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کو گچ کرنے ۱؎ ان پر لکھنے۲؎ اور ان پر چلنے سے منع کیا۳؎(ترمذی)

۱؎ اس کی تفصیلی بحث پہلے ہوچکی کہ قبر کا اندرونی حصہ پختہ نہ کیا جائے،ورنہ بیرونی حصہ پرحضورصلی اللہ علیہ وسلم نے پتھربھی لگایاہے جیساکہ آگے آرہا ہے اور بجری بچھائی ہے جیساکہ ابھی گزر گیا۔

۲؎ عام قبروں پر جہاں احتیاط نہ ہوسکے اﷲ کا نام یا قرآن کی آیت لکھنا منع ہے کہ اس میں بے ادبی کا قوی احتمال ہے،لوگ بھی گزر جاتے ہیں،وہاں جانور بھی گزرتے ہیں،خواص کے مزارات جہاں ان کی بے ادبی کا احتمال نہ ہو وہاں جائز ہے۔مرقات میں ہے کہ بعض علماء فرماتے ہیں قبر پر میت کا نام اور تاریخ وفات لکھنا سنت ہے اور لکھنے کی ممانعت کی حدیث منسوخ ہے جیساکہ حاکم نے فرمایا یہ تمام گفتگو قبر کےتعویذ پر لکھنے میں ہے،اگر قبر کے سرہانے پتھر کھڑا کیا جائے اس پر کچھ لکھا جائے تو بلاکراہت جائز ہے۔

۳؎ اسی لیئے فقہاءنے فرمایا کہ قبرستان میں جو قبر پر سے نئے راستے بنالیے جاتے ہیں ان میں نہ چلے نہ ننگے پاؤں،نہ جوتے پہن کر اس میں مسلمانوں کی قبر کی توہین ہے۔

1710 -[18]

وَعَن جَابر قَالَ: رُشَّ قَبْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ الَّذِي رَشَّ الْمَاءَ عَلَى قَبْرِهِ بِلَالُ بْنُ رَبَاحٍ بِقِرْبَةٍ بَدَأَ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى رِجْلَيْهِ. رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ. فِي دَلَائِل النُّبُوَّة

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر پانی چھڑکا گیا چھڑکنے والے حضرت بلال ابن رباح تھے جنہوں نے مشکیزے سے آپ کی قبر پر چھڑکا سرہانے سے شروع کیا حتی کہ پائنتی تک پہنچ گئے ۱؎ بیہقی نے دلائل النبوۃ میں روایت کی۔

 



Total Pages: 519

Go To