Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

احترام کے لیے اس پر غلاف رہتا ہے اور دروازۂ کعبہ پر بڑی قیمتی شمع کافوری جلائی جاتی ہے،رمضان میں مسجدوں کا چراغاں بھی یہیں سے لیا گیا،دیکھو"جاءالحق"حصہ اول۔

۲؎ یعنی میت کو قبر کے قبلہ کی جانب سے اتارا،یہی امام اعظم کا قول ہے اور یہ حدیث ان کی دلیل ہے۔اس کی پوری بحث ابھی اگلی حدیث میں ہم کرچکے ہیں۔

۳؎ یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میت سے یہ خطاب کرتے ہوئے دفن کیا۔اس سےمعلوم ہوا کہ مؤمن کی بعد وفات تعریفیں کرنا چاہئیں،نیز مردے سنتے ہیں زندہ انہیں سلام بھی کریں،بلکہ انہیں خطاب کرکے بات چیت بھی۔مُردوں کا سننا اور ان سے بات چیت کرنا صریح آیتوں اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔اس کی پوری بحث ہماری کتاب"علم القرآن"میں دیکھو،قرآن پاک میں جو ہے کہ آپ اندھوں کو ہدایت نہیں کرسکتے اور مُردوں کو سنا نہیں سکتے وہاں دل کے اندھے اور مردے مراد ہیں یعنی کفار اسی لیے وہاں مُردوں کا مقابلہ مؤمن سے کیا گیا کہ فرمایا گیا:"اِنۡ تُسْمِعُ اِلَّا مَنۡ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا"۔ خیال رہے کہ یہ میت سیدنا عبداﷲ ذوالبجادین ہیں۔(مرقاۃ)

۴؎ مگر ترمذی نے اس حدیث کو حسن فرمایا کیونکہ اس کی اسناد میں منہال ابن خلیفہ ہیں جنہیں ابن معین نے تو ضعیف کہا مگر دوسرےمحدثین نےثقہ کہا جن کی وجہ سے یہ حدیث حسن ہوئی۔تعجب ہے کہ شوافع ترمذی کے حسن کہنے کا ذکر نہیں کرتے اور شرح سنہ کے ضعیف کہنے کو بیان کرتے ہیں،نیز حیرت ہے کہ اس حدیث کو حسن ہونے کے باوجود قبول نہیں کرتے اورپچھلی حدیث جو ابھی گزری جو بالاتفاق ضعیف ہے اس پرعمل کرتے ہیں۔امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث بہت سی اسنادوں سے حضرت ابن مسعود سے مروی ہے آپ فرماتے ہیں میں گویا دیکھ رہا ہوں کہ غزوہ تبوک میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اورحضرات صدیق و فاروق عبداﷲ ذوالبجادین کے دفن کا انتظام فرمارہے ہیں اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم انہیں جانب قبلہ سے قبر میں اتار رہے ہیں اور یہ فرمارہے ہیں اور بعد دفن فرمایا الٰہی  میں اس سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہوجا حتی کہ میں نے تمنا کی کہ میں یہ میت ہوتا۔(مرقاۃ)

1707 -[15]

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَدْخَلَ الْمَيِّتَ الْقَبْرَ قَالَ: «بِسم الله وَبِاللَّهِ وعَلى ملكة رَسُولِ اللَّهِ» . وَفِي رِوَايَةٍ: " وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَرَوَى أَبُو دَاوُد الثَّانِيَة

رو ایت ہے حضرت ابن عمر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب میت کو قبر میں اتارتے تو فرماتے اﷲ کے نام سے اور اﷲ کی مدد سے رسول اﷲ کے دین پر اور ایک روایت میں ہے رسول اﷲ کی سنت پر ۱؎(احمد،ترمذی،ابن ماجہ)اور ابوداؤد نے دوسری روایت کی۔

۱؎ یعنی اتارتے وقت یہ کلمات کہتے جاتے تھے۔خیال رہے کہ سرکار نے بہ نفس نفیس چندصحابہ کو ہی قبر میں اتارا ہے مگر یہ کلمات دفن کے وقت ہمیشہ فرماتے ہیں لہذا دخل کے معنی ہیں بالواسطہ یا بلاواسطہ قبر میں اتارنا۔

1708 -[16]

وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ مُرْسَلًا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حثا عَلَى الْمَيِّتِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ بِيَدَيْهِ جَمِيعًا وَأَنَّهُ رَشَّ عَلَى قَبْرِ ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ وَوَضَعَ عَلَيْهِ حَصْبَاءَ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السُّنَّةِ وَرَوَى الشَّافِعِيُّ من قَوْله: «رش»

روایت ہے حضرت جعفر ابن محمد سے وہ اپنے بآپ سے مرسلًا راوی ۱؎ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میت پر اپنے دونوں ہاتھوں سے تین لپ ڈالے۲؎ اور اپنے فرزند ابراہیم کی قبر پر چھڑکاؤ کیا اور اس پرکنکر بچھائے۳؎(شرح سنہ)اور شافعی نے رشّ سے۔

 



Total Pages: 519

Go To