Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

سنت ہے،ہمارے ہاں میت کو قبر کے قبلہ کی جانب رکھ کر ادھر سے اتارا جائے گا۔امام شافعی کی دلیل یہ حدیث ہے مگر اس سے یہ استدلال درست نہیں چند وجہ سے:ایک یہ کہ یہ حدیث اسنادًا صحیح نہیں کیونکہ امام شافعی نے اس کی اسناد یوں بیان فرمائی شافعی"عن الثقۃ عندہ عن عمر بن عطاء عن عکرمۃ عن ابن عباسٍ"۔ظاہر ہے کہ ثقہ عندہ ضعف کی طرف اشارہ ہے کہ اس میں راوی کا نام نہیں،صرف یہ ہے کہ میں نے ایک معتبر آدمی سے سنا لہذا یہ راوی مجہول ہوا۔ دوسرے یہ کہ دوسری صحیح روایات اس کے خلاف ہیں۔چنانچہ ابوداؤ نے مراسیل میں حماد ابن سلیمان ابراہیم النخعی سے اور ابن ماجہ نے ابو سعید خدری سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جانب قبلہ سے قبر انور میں داخل کیا گیا،سر کی جانب سے نہ کیا گیا،لہذا احادیث متعارض ہیں،متعارض سے استدلال درست نہیں۔تیسرے یہ کہ صحابہ کرام میت کو جانب قبلہ سے قبر میں داخل کرتے تھے۔چنانچہ ابن ابی شیبہ نے روایت کیا کہ حضرت علی نے یزید ابن کنف پرنماز جنازہ پڑھائی اور انہیں جانب قبلہ سے قبر میں اتارا،نیز انہی نے حضرت محمدا بن حنْفیہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس کا جنازہ پڑھایا تو انہیں جانب قبلہ سے قبر میں اتارا۔چوتھے یہ کہ آگے اسی مشکوٰۃ شریف میں آرہا ہے کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے میت کوقبر میں قبلہ کی طرف سے اتارا ۔پانچویں یہ کہ ان باتوں سے آنکھ بندکرلی جائے اور مان لیا جائے کہ حضور انورکو جانب سر سے اتارا گیا تو اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ آپ کو حجرے میں دفن کیا گیا تھا،جانب قبلہ دیوار حائل تھی ادھر جگہ نہ تھی اس مجبوری کی وجہ سے آپ کی ڈولی پائنتی کی طرف رکھی گئی تو یہ عمل مجبورًا تھا۔اور جو حدیثیں ہم نے پیش کیں وہ غیرمجبوری کی حالت میں ہیں۔(مرقاۃ) اشعہ وغیرہ۔

1706 -[14]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ قَبْرًا لَيْلًا فَأُسْرِجَ لَهُ بسراج فَأخذ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ وَقَالَ: «رَحِمَكَ اللَّهُ إِنْ كُنْتَ لَأَوَّاهًا تَلَّاءً لِلْقُرْآنِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ فِي شرح السّنة: إِسْنَاده ضَعِيف

روایت ہے انہی سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت قبر میں تشریف لے گئے تو آپ کے لیئے چراغ جلایا گیا ۱؎ حضور نے میت کو قبلہ کی طرف سے لیا ۲؎ اور فرمایا اﷲ تم پر رحم کرے تم بہت زاری کرنے اور تلاوت قرآن کرنے والے تھے۳؎(ترمذی)شرح سنہ نے فرمایا اس کی اسناد ضعیف ہے۴؎

۱؎ یعنی رات میں میت کو دفن کیا تو میت کے لیئے یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چراغ سے روشنی کی گئی۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ قبر پر آگ لے جانا منع ہے مگر چراغ لے جانا جائز کیونکہ یہ روشنی کے لیے ہے نہ کہ مشرکین سے مشابہت کے لیے،مشرکین میت کے ساتھ آگ لے جاتے ہیں آگ،کی پوجاکرنے یا میت کو جلانے کے لیے لہذا بزرگوں کے مزار کے پاس لوبان یا اگربتی جلانا جائز ہے تاکہ میت کو فرحت ہو اور زائرین کو راحت اسی لیے میت کے کفن کو دھونی دینا سنت ہے جسے فقہاءاستجمار کہتے ہیں۔دوسرے یہ کہ ضرورت کے وقت قبر پر چراغ جلانا جائز ہے لہذا جن بزرگوں کے مزاروں پر دن رات زائرین کا ہجوم اور تلاوت قرآن کا دور رہتا ہے وہاں ضرور رات کو روشنی کی جائے،اس کا ماخذ یہ حدیث ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ انور پر ہمیشہ سے اور اب نجدیوں کے زمانہ میں اور زیادہ اعلیٰ درجہ کی روشنی ہوتی ہے،خاص گنبد شریف پر بیسیوں قمقمے نصب ہیں۔جن احادیث میں قبر پر چراغ جلانے سے ممانعت ہے وہاں بلاضرورت چراغ رکھ آنامراد ہے کہ اس میں اسراف ہے۔خیال رہے کہ بزرگوں کا احترام ظاہر کرنے کے لیے بھی روشنی کرسکتے ہیں،جیسے کعبہ معظمہ کے



Total Pages: 519

Go To