Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

اس جانب اشارہ ہے بعض عشاق فرماتے ہیں کہ قبر اتنی گہری ہونی چاہیے کہ مردہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر کھڑا ہوسکے۔

۲؎ یہ حکم اس لیئے تھا کہ کپڑا بہت کم تھا ایک ایک چادر میں کئی کئی دفن کیے گئے۔

1704 -[12]

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ جَاءَتْ عَمَّتِي بِأَبِي لِتَدْفِنَهُ فِي مَقَابِرِنَا فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُدُّوا الْقَتْلَى إِلَى مَضَاجِعِهِمْ» . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَالدَّارِمِيُّ وَلَفظه لِلتِّرْمِذِي

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں جب احد کا دن ہوا تو میری پھوپھی میرے بآپ کو لائیں تاکہ انہیں اپنے قبرستان میں دفن کریں تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلانچی نے اعلان کیا کہ شہداءکو ان کے قتل گاہ کی طرف واپس کرو ۱؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی،دارمی)اور لفظ ترمذی کے ہیں۔

۱؎  اس سےمعلوم ہوا کہ میت کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنا منع ہے نقل میت کا مسئلہ بڑے معرکہ کا ہے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ممانعت صرف شہدائے احد کے لیئےتھی تاکہ تمام شہدا ایک جگہ رہیں،زائرین کو ان کی زیارت میں آسانی ہو اور وہ شہداءبھی اس میدان پاک کی برکت سے فائدہ حاصل کریں کیونکہ احدحضورصلی اللہ علیہ وسلم کا محبوب پہاڑہے اور محبوب کے پاس دفن ہونا بھی اچھا۔خیال رہے کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے چھ مہینہ کے بعد اپنے والد کی نعش مبارک وہاں سے منتقل کی اور جنت البقیع میں دفن کی یہ کام کسی ضرورت کی وجہ سے ہو اسی لیئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت منع نہ فرمایا۔نقل میت کے متعلق تحقیق یہ ہے کہ بعد دفن قبر کھول کر نعش منتقل کرنا یا اتنی دور میت کو لے جانا کہ جہاں تک پہنچتے ہوئے میت کے بگڑ جانے کا خطرہ ہو ممنوع ہے لیکن اگر یہ وجوہ نہ ہو تو کسی فائدہ صحیحہ کے لیئے میت کو منتقل کرنا جائز ہے۔چنانچہ حضرت سعد ابن وقاص کا جنازہ ان کے محل سے جو مدینہ پاک سے دس میل تھا مدینہ لایا گیا،بعددفن میت کو نکالنا سخت منع ہے اسی لیئے بعض صحابہ کرام کفار کی زمین میں دفن ہوئے تو انہیں وہیں رکھا گیا حتی کہ اگر میت بلاغسل و نماز بھی دفن ہوگیا ہو تو اسے نہیں نکال سکتے۔یوسف علیہ السلام و موسیٰ علیہ السلام کے تابوتوں کو جومصر سے شام کی طرف منتقل کیا گیا یہ ان دینوں میں جائز تھا ہمارے ہاں ممنوع لہذا روافض جو امانت کرکے مردے کو دفن کرتے ہیں سخت ناجائز ہے۔قبر اکھیڑنے کی صرف ایک ہی صورت ہے وہ یہ کہ مردہ کسی غیر کی زمین میں بغیر مالک کی اجازت دفن کردیا گیا ہو تو مالک مردے کو نکلوا کر اپنی زمین خالی کراسکتا ہے۔وہ جو فقہاء فرماتے ہیں کہ جب میت گل جائے تو قبر پر کھیتی باڑی بھی کرسکتے ہیں،اس سے یہی مراد ہے ورنہ قبر وقف ہوتی ہے اس پر کھیتی کیسی۔

1705 -[13]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سُلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ. رَوَاهُ الشَّافِعِي

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو سر کی طرف سے قبر میں اتارا گیا ۱؎ (شافعی)

۱؎  سل سلول سے بنا،بمعنی کھینچنا و سونتناء اسی لیئے ننگی تلوار کو سیف مسلول کہتے ہیں۔حدیث کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم اطہر قبر میں پائنتی کیطرف رکھا گیا پھر ادھر سے قبر انور میں داخل کیا گیا۔حضرت امام شافعی کا یہ طریقہ دفن



Total Pages: 519

Go To