Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1700 -[8]

عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: كَانَ بِالْمَدِينَةِ رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا يَلْحَدُ وَالْآخَرُ لَا يَلْحَدُ. فَقَالُوا: أَيُّهُمَا جَاءَ أَوَّلًا عَمِلَ عَمَلَهُ. فَجَاءَ الَّذِي يَلْحَدُ فَلَحَدَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ فِي شَرْحِ السّنة

روایت ہے حضرت عروہ ابن زبیر سے فرماتے ہیں کہ مدینہ میں دوشخص تھے ایک بغلی کھودتا تھا دوسرا یہ نہیں ۱؎ صحابہ نے کہا ان میں جو پہلے آئے وہ اپنا کام کرلے تو بغلی کھودنے والا ہی آیا جس نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیئے بغلی قبر کھودی۲؎(شرح سنہ)

۱؎ یعنی بغلی نہ کھودتے تھے بلکہ صندوق کھودنا جانتے تھے۔خیال رہے کہ لحد کھودنے والے حضرت زید ابن سہیل انصاری یعنی ابوطلحہ تھے اور صندوق کھودنے والے حضرت عبیدہ ابن جراح تھے۔مدینہ میں دو ہی بزرگ تھے جنہیں قبر کھودنا آتی تھی ان کا پیشہ گورکنی نہ تھی آج کل کی طرح،ہرمسلمان کو کفن سینا اور قبر کھودنا سیکھنا چاہیئے کہ نہ معلوم موت کہاں واقع ہو۔

۲؎ اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ صندوقی قبر منع نہیں ورنہ سیدنا ابوعبیدہ ابن جراح جیسے صحابی یہ نہ کھودا کرتے اور صحابہ کبار ان دونوں کو پیغام نہ بھیجتے۔خیال رہے کہ اگرچہ تمام صحابہ قبرکھودنا جانتے تھے مگر وہ دونوں حضرات بہت مشاق تھے انہوں نے چاہا کہ قبر انور بہت اعلیٰ درجے کی تیار ہو جو بہت تجربہ کار ہی کرسکتا ہے۔

1701 -[9]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّحْدُ لَنَا وَالشَّقُّ لغيرنا» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَأَبُو دَاوُد وَابْن مَاجَه

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغلی قبر ہمارے لیئے ہے اور صندوقی ہمارے غیروں لیئے ہے ۱؎ (ترمذی،ابوداؤد،نسائی،ابن ماجہ)

۱؎ یعنی مسلمانوں کے لیئے بغلی قبر بہتر ہے جیسے اہل کتاب وغیرہ صندوقی کو بہتر جانتے ہیں یہ کلام بیان استحباب کے لیئے ہے نہ کہ بیان وجوب کے لیئے جیساکہ ابھی عرض کیا جاچکا یا یہ مطلب ہے کہ ہماری قبر ان شاءاﷲ لحدہوگی ہمارے علاوہ بعض امتیوں کی قبریں صندوقی بھی ہوں گی یا ہم گروہ انبیاء کی قبریں لحد ہوئیں،امتوں کے لیئے شق بھی ہے یا یہ مطلب ہے کہ ہم مدینہ والوں کی قبر یں لحد ہونی چاہیے کیونکہ یہاں کی مٹی پختہ ہے دوسرے لوگوں کے لیئے جہاں کی مٹی نرم ہو ٹھہرتی نہ ہو شق مناسب ہے۔

1702 -[10] وَرَوَاهُ أَحْمَدُ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

احمد نے جریر ابن عبداﷲ سے روایت کی۔

 

1703 -[11]

وَعَنْ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ أُحُدٍ: «احْفُرُوا وَأَوْسِعُوا وَأَعْمِقُوا وَأَحْسِنُوا وَادْفِنُوا الِاثْنَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ فِي قبر وَاحِد وَقدمُوا أَكْثَرهم قُرْآنًا» . رَوَاهُ أمد وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَرَوَى ابْنُ مَاجَهْ إِلَى قَوْله وأحسنوا

روایت ہے حضرت ہشام ابن عامر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے دن فرمایا کہ چوڑی،گہری اور اچھی قبر کھودو ۱؎ اور ایک قبر میں دو دو تین تین دفن کرو جن میں زیادہ قرآن والوں کو آگے رکھو۲؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،نسائی)اور ابن ماجہ نے احسنوا تک۔

۱؎ اس سے معلوم ہوا کہ مردے کے لیئے قبر خوب چوڑی ہو جس میں جسم پھنسے نہیں اور گہری ہو،گہرائی مردے کے قد کے برابر یا کھڑے ہونے میں سینہ کے برابر ہو اور قبر کو اندر سے خوب صاف کردیا جائے اس میں کوئی کنکر کانٹا نہ ہو احسنوا



Total Pages: 519

Go To