Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ یعنی ڈھلوان جیسے اونٹ کا کوہان اور پیٹھ۔اس حدیث کی بناء پر امام ابوحنیفہ و مالک و احمدفرماتے ہیں کہ قبر ڈھلوان بنانا بہتر ہے،امام شافعی کے ہاں چوکھوٹی بنانا بہتر،یہ حدیث ان تین اماموں کی دلیل ہے۔غالب یہ ہے کہ سفیان تمار نے شروع زمانہ ہی میں قبر انور کی زیارت کی ہوگی،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر شریف پہلے ہی سے ایسی تھی کیونکہ عہدصحابہ میں حجرہ شریف کھلتا تھا اور قبر انور کی زیارت عمومًا ہوتی تھی۔بعض لوگوں نے کہا کہ پہلے قبرشریف چوکھوٹی تھی،پھرڈھلوان بنوائی گئی مگر اس کا کوئی ثبوت نہیں تمام دیکھنے والوں نے یہی کہا کہ قبر ڈھلوان ہی تھی۔

1696 -[4]

وَعَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ قَالَ: قَالَ لِي عَلِيٌّ: أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِن لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ وَلَا قَبْرًا مشرفا إِلَّا سويته. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابی ھیاج اسدی سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ مجھ سے حضرت علی نے فرمایا کہ کیا میں تمہیں اس کام پر نہ بھیجوں جس پر مجھے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا تھا کہ تم کوئی تصویر نہ دیکھو مگر مٹادو اور نہ اونچی قبر دیکھومگر زمین کے برابرکردو۲؎(مسلم)

۱؎ آپ کا نام حیان ابن حصین ہے،کنیت ابو الہیّاج ہے،قبیلہ بنی اسد سے ہیں،حضرت عمار ابن یاسر کے کاتب تھے،تابعی ہیں اور منصور ابن حیان مشہور تابعی کے والد ہیں۔

۲؎ یعنی جس کام کے لیے مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےبھیجا تھا اسی کام کے لیے میں تمہیں بھیجتا ہوں،تصویروں اور مجسموں کو مٹانا اور اونچی قبروں کو گراکر زمین کے ہموارکردینا۔خیال رہے کہ یہاں قبروں سے یہود و نصاریٰ کی قبریں مراد ہیں نہ کہ مسلمانوں کی چند وجہ سے:ایک یہ کہ حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ پاک میں صحابہ کرام کی قبریں اونچی کیسے بن گئیں جنہیں مٹانے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت کو علی کو بھیجا کیونکہ ان بزرگوں کا کفن دفن حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اور آپ کی اجازت سے ہوتا تھا۔دوسرے یہ کہ قبر کو فوٹو و مجسمہ سے کیا نسبت،مسلمانوں کی قبروں پر نہ فوٹو ہوتے ہیں نہ مجسمہ،ہاں عیسائیوں کی قبریں بہت اونچی بھی ہوتی ہیں اور ان پر میت کا مجسمہ یا فوٹو بھی ہوتا ہے۔تیسرے یہ کہ مسلمان کی قبر زمین کے برابر نہیں کی جاسکتی بلکہ وہ ایک بالشت یا ایک ہاتھ اونچی رکھی جائے گی اور یہاں برابر کر دینے کا حکم ہے۔چوتھے یہ کہ اس کی تائید بخاری شریف کی اس حدیث سے ہوتی ہے جو مسجد نبوی کی تعمیرکے باب میں ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی قبریں اکھیڑنے کا حکم دیا تو اکھیڑ دی گئیں اسی کام کے لیئے علی مرتضٰی مامور ہوئے تھے۔پانچویں یہ کہ فتح الباری شرح بخاری میں اس حدیث پرعنوان قائم کیا کہ کیا مشرکین جاہلیت کی قبریں اکھیڑی جاسکتی ہیں یعنی ان کے علاوہ نبیوں اور ان کے متبعین کی نہیں کیونکہ ان کی قبریں اکھیڑنے میں ان کی توہین ہے۔چھٹے یہ کہ اسی فتح الباری میں تھوڑی دور جاکر فرمایا حدیث سےمعلوم ہوا کہ مملوکہ مقبرے میں تصرف جائز ہے اور پرانی قبریں اکھیڑ دینا جائز ہیں بشرطیکہ وہ قبریں حرمت والی نہ ہوں۔ساتویں یہ کہ مسلمان کی اونچی قبر بنانا منع ہے لیکن اگر بن گئی ہے تو اسے گرانا ناجائز کہ اس میں قبر اور صاحب قبر کی اہانت ہے۔جب مسلمان کی قبر سے تکیہ لگانا،اس پر چلنا پھرنا منع ہے تو اس پر پھاؤڑے چلانا کب جائزہوگا جیسے چھوٹے سائز کے قرآن شریف و حمائلیں چھاپنا منع ہے لیکن اگر چھپ چکے ہوں تو انہیں جلانا حرام۔آٹھویں یہ کہ بخاری کتاب الجنائز باب الجرید علی القبر میں تعلیقًاہے حضرت خارجہ فرماتے کہ ہم زمانہ عثمانی میں تھے اور ہم سے بڑا بہادر



Total Pages: 519

Go To