$header_html

Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

باب دفن المیت

میت کے دفن کاباب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ دفن کے معنے ہیں چھپانا مگر اب میت کو قبرستان یا مال کو زمین میں گاڑ دینے کا نام دفن ہے اسی لیے گڑھے ہوئے مال کو دفینہ کہتے ہیں۔سب سے پہلے ہابیل کو دفن کیا گیا۔قبر دو طرح کی ہوتی ہے:ایک لحد،یعنی بغلی یا پنجابی میں سانویں۔دوسری شق یعنی صندوقی یا پنجابی میں چیردیں،دونوں قسم کی قبریں جائزہیں لیکن اگر زمین مضبوط ہوتو لحد افضل ہے،دفن کے تفصیلی احکام فقہ کی کتاب میں دیکھو۔

1693 -[1]

عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَن سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي هَلَكَ فِيهِ: أَلْحِدُوا لِي لَحْدًا وَانْصِبُوا عَلَى اللَّبِنِ نَصْبًا كَمَا صُنِعَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ

روایت ہے حضرت عامرابن سعد ابن ابی وقاص سے کہ سعد ابن ابی وقاص نے اپنے مرض وفات میں فرمایا میرے لیے بغلی قبرکھودنا اورمجھ پرکچی اینٹیں یونہی کھڑی کرنا جیسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کی گئیں ۱؎ (مسلم)

۱؎ بغلی قبر یہ ہے کہ اولًا زمین سیدھی کھودی جائے،پھرقبلہ کی جانب میت کے جسم کے مطابق گڑھا کیا جائے اور یہ جو دروازہ سا بن گیا اسے اینٹوں یا پتھروں سے بندکردیا جائے،یہاں پکی اینٹ یالکڑی لگانا مکروہ ہے کہ ان میں آگ کا اثر ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور میں نو کچی اینٹیں لگائی گئیں کیونکہ مدینہ منورہ کی اینٹ بہت بڑی ہوتی ہے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور زمین سے ایک بالشت اونچی رکھی گئی۔

1694 -[2]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جُعِلَ فِي قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطِيفَةٌ حَمْرَاء. رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور میں سرخ کمبل ڈالا گیا ۱؎ (مسلم)

۱؎ اس طرح کہ حضرت شقران غلام رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا اب میں یہ کمبل کسے اوڑھے ہوئے دیکھوں گا،بے تابی میں قبر انور میں کود گئے اور بستر کی طرح اسے زمین پر بچھادیا۔سرخ سے مراد سرخ دھاری والا ہے نہ کہ خالی سرخ۔خیال رہے کہ یہ عمل شریف تمام صحابہ کی موجودگی میں ہوا اور کسی نے اس پر انکار نہ کیا لہذا یہ فعل شریف بالکل جائز ہوا۔علماء فرماتے ہیں کہ یہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خصوصیات میں سے ہےکسی اور کے لیے قبر میں کچھ بچھاناجائزنہیں کیونکہ زمین نہ پیغمبر کاجسم کھاسکتی ہے اور نہ ان کا کفن و بستر لہذا اس میں مال کی بربادی نہیں،دیکھو سلیمان علیہ السلام بعد وفات ایک سال یا چھ مہینہ عصا کے سہارے کھڑے رہے دیمک نے آپ کی لاٹھی کھائی قدم نہ کھایا اور آپ کا لباس نہ گلا نہ میلا ہوا۔

1695 -[3]

وَعَنْ سُفْيَانَ التَّمَّارِ: أَنَّهُ رَأَى قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَنَّمًا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ

روایت ہے حضرت سفیان تمار سے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرکوہان نما دیکھی ۱؎(بخاری)

 



Total Pages: 519

Go To
$footer_html