Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۲؎ اگرچہ اﷲ تعالٰی ساری مخلوق کا رب ہے مگر چونکہ فرشتےبے گناہ اور ہمیشہ عبادت کرنے والی مخلوق ہیں،نیز سب سے بڑی مخلوق فرشتے ہی ہیں اس لیےخصوصیت سے ان کا ذکر فرمایا۔روح سے مرادیاجان ہے یاحضرت جبریل علیہ السلام جن کا لقب روح الامین ہےیاخاص فرشتوں کی جماعت یا وہ فرشتہ ہے جس کےسترہزار(۷۰۰۰۰)چہرے ہیں ہر چہرے میں سترہزار زبانیں اور ہر زبان میں ستر ہزارلغتوں سے خدا تعالٰی کی حمد۔مرقات نے فرمایا کہ انسان جنات کا دسواں حصہ ہیں اور جنات کرو بی فرشتوں کا دسواں حصہ اورکروبی فرشتے باقی ملائکہ کا دسواں حصہ۔

873 -[6]

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا إِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ» . رَوَاهُ مُسلم

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےکہ مجھے رکوع اور سجدے میں تلاوت قرآن سےمنع کیا گیا ہے ۱؎ رکوع میں تو رب کی تعظیم کرو ۲؎ اور سجدے میں دعا میں کوشش کرو کہ وہ دعائیں قبولیت کے لائق ہیں۳؎(مسلم)

۱؎ ممانعت تنزیہی کیونکہ ان دونوں حالتوں میں انسان کے انتہائی عجز کا اظہارہے،لہذا اس وقت عظیم الشان کتاب کا پڑھنا مناسب نہیں۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ رکوع،سجدہ میں قرآن پڑھنے سے نمازٹوٹ جاتی ہے،بعض کےنزدیک واجب الاعادہ ہوتی ہے،یونہی قعدہ میں قرآن پڑھ لینے سے سجدہ سہو واجب ہوتا ہے۔

۲؎ یعنی کہو"سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ"تاکہ عملًا اپنے عجز کا اظہار ہو اور قولًا رب کی عظمت کا اقرار۔

۳؎  یعنی نفل نماز کے سجدوں میں صراحتًا دعائیں مانگو اور دیگرنمازوں کے سجدوں میں رب کی تسبیح و تمحیدکرو کہ یہ بھی ضمنی دعا ہے،کریم کی تعریف بھی دعا ہوتی ہے۔بعض بزرگوں کو دیکھا گیا کہ وہ سجدے میں گرکر دعائیں مانگتے ہیں ان کا ماخذ یہ حدیث ہے کیونکہ سجدے میں بندےکو رب سے انتہائی قرب ہوتا ہے،اس حالت کی دعا ان شاءاﷲ ضرور قبول ہوگی۔

874 -[7]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا قَالَ الْإِمَامُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ قَوْلُهُ قَوْلَ الْمَلَائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تقدم من ذَنبه "

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب امام"سمع اﷲ لمن حمدہ"کہے تو تم"اللّٰھم ربنا لك الحمد"کہوکیونکہ جس کا کلام فرشتوں کے کلام کے موافق ہوگا اس کے پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے ۱؎(مسلم،بخاری)

۱؎ اس حدیث سے چند مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ جماعت میں امام صرف"سمع اﷲ لمن حمدہ"کہے گا اورمقتدی صرف "ربنا لك الحمد"دونوں کلمات کوئی نہ کہے گا۔دوسرے یہ کہ ہماری حفاظت کرنے والے اور اعمال لکھنے والے فرشتے ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں اور دعائیں مانگتے ہیں۔تیسرے یہ کہ مقتدی کو"ربنا لك الحمد" آہستہ کہنی چاہیےتاکہ فرشتوں کی



Total Pages: 519

Go To