Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

۱؎ یعنی اگر بچہ زندہ پیدا ہوکر مرجائے جس کی زندگی اس کی چیخ یا حرکت سے معلوم ہوجائے تب تو اس کی نماز جنازہ بھی ہے اور اسکا نام بھی رکھا جائے گا،اس کا باقاعدہ کفن دفن بھی ہوگا،اس پرمیراث کے احکام بھی جاری ہوں گے،اگر مردہ ہی پیدا ہو تو وہ گر اہوا حمل ہے جس پر یہ کوئی حکم جاری نہیں صرف ایک کپڑے میں لپیٹ کر گھڑے میں داب دیا جائے گا،یہ حدیث گزشتہ کی تفسیر ہے جس میں تھا کہ بچہ پرنماز جنازہ پڑھی جائے گی۔

۲؎ اس حدیث کو ابن حبان نے صحیح کہا اور حاکم نے فرمایا کہ یہ علی شرط شیخین ہے۔

1692 -[47]

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُومَ الْإِمَامُ فَوْقَ شَيْءٍ وَالنَّاسُ خَلْفَهُ يَعْنِي أَسْفَلَ مِنْهُ. رَوَاهُ الدراقطني وَأَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابومسعود انصاری سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع فرمایا کہ امام کسی چیز پرکھڑا ہوا اور لوگ اس کے پیچھے یعنی اس سے نیچے ہوں ۱؎ (دارقطنی کتاب الجنائز کے مجتبی میں)

۱؎ ہر امام کا یہی حکم ہے خواہ نماز پنجگانہ کا امام ہو یا نماز جنازہ کا۔بظاہرمعلوم ہوتاہے کہ یہ حدیث "باب الامامت"میں آنی چاہیےتھی مگر مصنف یہاں لائے تاکہ معلوم ہوا کہ اگر جنازہ سواری پر یا لوگوں کے ہاتھوں میں ہو تو نماز جنازہ جائز نہیں کیونکہ میت مثل امام کے ہوتی ہے تنہا اس کا اونچا ہونا یا الگ جگہ میں ہونا نماز کا مانع ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ بعد نماز جنازہ میت پر دعا ضرور ہی پڑھنی چاہیئے تاکہ جو لوگ کچھ دیر سے نماز میں شریک ہوئے ہیں وہ اپنی تکبیریں پوری کرلیں۔


 



Total Pages: 519

Go To