Book Name:Miraat-ul-Manajeeh Sharah Mishkaat-ul-Masabeeh jild 2

1688 -[43]

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجَنَازَةِ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبُّهَا وَأَنْتَ خَلَقْتَهَا وَأَنْتَ هَدَيْتَهَا إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَنْتَ قَبَضْتَ رُوحَهَاوَأَنْتَ أَعْلَمُ بِسِرِّهَا وَعَلَانِيَتِهَا جِئْنَا شُفَعَاءَ فَاغْفِرْ لَهُ. رَوَاهُ أَبُو دَاوُد

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز جنازہ کے بارے میں راوی الٰہی  تو اس کا رب ہے تو نے ہی اسے پیدا کیا تو نے ہی اسے اسلام کی ہدایت دی تو نے ہی اس کی روح قبض کی تو ہی اس کے کھلے چھپے کو جانتا ہے،ہم شفیع آئے ہیں اسے بخش دے ۱؎(ابوداؤد)

۱؎ اگرچہ روح قبض کرنا ملک الموت کا کام ہے مگر چونکہ وہ سب کچھ رب کے حکم سے کرتے ہیں اس لیےفعل کو رب کی طرف نسبت کیا گیا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام اور ایمان کے توسل سے دعاکرنا جائزہے۔

1689 -[44]

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَبِي هُرَيْرَةَ عَلَى صَبِيٍّ لَمْ يَعْمَلْ خَطِيئَةً قَطُّ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: اللَّهُمَّ أَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْر. رَوَاهُ مَالك

روایت ہے حضرت سعید ابن مسیب سے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ کی اقتداء میں اس بچے پرنماز پڑھی جس نے کبھی کوئی خطا نہ کی تھی لیکن میں نے آپ کو فرماتے سنا کہ الٰہی  اسے عذاب قبر سے بچالے ۱؎(مالک)

۱؎ یہاں عذاب قبر سے مراد قبر کی تنگی اور وہاں کی وحشت ہے کہ یہ بچے کوبھی ہوجاتی ہے جیسا پہلے عرض کیا جاچکا،حساب قبر یا قبر میں آگ کا عذاب بچے کو نہیں ہوتا،رب تعالٰی کسی کو بے گناہ سزا نہیں دیتا۔

1690 -[45]

وَعَنِ الْبُخَارِيِّ تَعْلِيقًا قَالَ: يَقْرَأُ الْحَسَنُ عَلَى الطِّفْلِ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ وَيَقُولُ: اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا سلفا وفرطا وذخرا وَأَجرا

روایت ہے بخاری سے بطریق تعلیق ۱؎ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بچہ پر سورۂ فاتحہ پڑھتے تھے ۲؎ اور کہتے تھے الٰہی  تو اسے ہمارے لیےگزشتگان میں سے اور پیش رو اور ذخیرہ اور ثواب بنا۳؎

۱؎ امام بخاری ترجمہ باب میں بھی کبھی بلا اسنادکوئی حدیث بیان کرجاتے ہیں وہ تعلیق کہلاتی ہے۔امام بخاری کی تعلیقات بالاتفاق قبول ہیں کہ ان کا اسنادچھوڑنا صحتِ حدیث کی دلیل ہے،دوسرے محدثین کا یہ درجہ نہیں۔

۲؎ حسن سے مراد خواجہ حسن بصری ہیں،آپ نماز سے پہلےیانماز کے بعد ایصال ثواب کی نیت سے الحمد شریف پڑھتے تھے یا نماز کے اندر پہلی تکبیر کے بعد بہ نیت ثناء یا تیسری کے بعد بہ نیت دعا اور اگربہ نیت تلاوت ہی پڑھتے ہوں تو یہ ان کا اپنا اجتہادی عمل ہے۔بہرحال یہ روایت نہ حنفیوں کے خلاف ہے اور نہ حنفیوں کے مقابلے میں دلیل۔

۳؎ متقدمین کو سلف کہتے ہیں اورمتاخرین کو خلف۔فرط وہ جماعت کہلاتی ہے جو فوج سے آگے پڑاؤ پرپہنچ کرلشکر کے کھانے پینے کا انتظام کریں۔اس روایت سےمعلوم ہوا کہ بچے کے جنازے میں اس کی مغفرت کی دعا نہ کی جائے کیونکہ وہ بے گناہ ہے بلکہ اس کو سا منے رکھ کر اپنے لیے دعا کی جائے کہ خدایا اسے ہمارا شفیع بنا جیسے کہ صحابہ نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جنازہ میں اپنے لیے دعائیں کیں کہ خداوند انہیں ہمارا شفیع بنا اور ان کی طفیل ہمیں بخش دے۔اس سے معلوم ہوا کہ نماز جنازہ میت کے گناہ معاف کرانے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ یہ حقِ اسلام ہے لہذا شہید پر جنازہ پڑھاجائے گا۔

1691 -[46]

وَعَنْ جَابِرٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الطِّفْلُ لَا يُصَلَّى عَلَيْهِ وَلَا يَرِثُ وَلَا يُوَرَّثُ حَتَّى يَسْتَهِلَّ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ: «وَلَا يُورث»

روایت ہے حضرت جابر سے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بچہ پر نہ نماز پڑھی جائے نہ وہ وارث ہو اور نہ موروث حتی کہ چیخے ۱؎(ترمذی،ابن ماجہ)مگر ابن ماجہ نے موروث نہ ہونے کا ذکرنہیں کیا۲؎

 



Total Pages: 519

Go To